منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 581

منن الرحمٰن — Page 155

۱۵۵ روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحمن و نور الامم وخير البرية واصحابه الهادين المهتدين واله الطيبين اور امتوں کا نور اور تمام مخلوق سے بہتر ہے۔ اور اس کے اصحاب پر جو ہادی اور مہدی ہیں اور اس کے آل پر جو طیب بقیه حاشیه : یہ انعام ہے کہ ہر یک چیز کو اول اس کے وجود کی رو سے وہ تمام قومی وغیرہ عنایت ہوں جن کی وہ چیز محتاج ہے پھر اس کے حالات مترقبہ کے حصول کے لئے اس کو راہیں دکھائی جائیں اور متمم کے یہ معنی ہیں کہ سلسلہ فیض کو کسی پہلو سے بھی ناقص نہ چھوڑا جائے اور ہر یک پہلو سے اس کو کمال تک پہنچایا جائے ۔ سورت کا اسم جو قرآن کریم میں آیا ہے جس کو ہم اقتباس کے طور پر اس خطبہ کے اول میں لائے ہیں ان وسیع معنوں پر مشتمل ہے جن کو ہم نے بطور اختصار اس مضمون میں ذکر کیا ہے۔ اب ہم نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایک نا سمجھ انگریز عیسائی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسلام پر عیسائی مذہب کو یہ فضیلت ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام باپ بھی آیا ہے اور یہ نام نہایت پیارا اور دلکش ہے اور قرآن میں یہ نام نہیں آیا۔ مگر ہمیں تعجب ہے کہ اس معترض نے اس تحریر کے وقت پر یہ خیال نہیں کیا کہ لغت نے کہاں تک اس لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کی ہے کیونکہ ہر یک لفظ کو حقیقی عزت اور بزرگی لغت سے ہی ملتی ہے اور کسی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ اپنی طرف سے کسی لفظ کو وہ عزت دے جولغت اس کو دے نہیں سکی اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کا کلام بھی لغت کے التزام سے باہر نہیں جاتا اور تمام اہل عقل اور نقل کے اتفاق سے کسی لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کرنے کے وقت اول لغت کی طرف رجوع کرنا چاہیے کہ اس زبان نے جس زبان کا وہ لفظ ہے یہ خلعت کہاں تک اس کو عطا کی ہے اب اس قاعدہ کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر جب سوچیں کہ اب یعنی باپ کا لفظ لغت کی رو سے کس پایہ کا لفظ ہے تو بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ جب مثلاً ایک انسان فی الحقیقت دوسرے انسان کے نطفہ سے پیدا ہومگر پیدا کرنے میں اس نطفہ انداز انسان کا کچھ بھی دخل نہ ہو تب اس حالت میں کہیں گے کہ یہ انسان فلاں انسان کا آب یعنی باپ ہے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خدائے قادر مطلق کی یہ تعریف کرنی منظور ہو جو مخلوق کو اپنے خاص ارادہ سے خود پیدا کرنے والا خود کمالات تک پہنچانے والا اور خودرحم عظیم سے مناسب حال اس کے انعام کرنے والا اور خود اس کا حافظ اور قیوم ہے تو لغت ہر گز اجازت نہیں دیتی کہ اس مفہوم کو اب یعنی باپ کے لفظ سے ادا کیا جائے بلکہ لغت نے اس کے لئے ایک دوسرا لفظ رکھا ہے جس کو رب کہتے ہیں جس کی اصل تعریف ابھی ہم لغت کی رو سے بیان کر چکے ہیں اور نوٹ : یادر ہے کہ لفظ اب بیا باپ یا قادر کے مفہوم میں ہرگز محبت کے معنے ماخوذ نہیں جس فعل کے شروع سے انسان یا کوئی اور حیوان باپ کہلاتا ہے اس وقت یہ خیال ہرگز نہیں ہوتا بلکہ محبت تو دیکھنے اور انس کرنے سے بعد میں رفتہ رفتہ پیدا ہوتی ہے لیکن ربوبیت کے لئے محبت ابتدا سے ہی ایک لازمہ ذاتی ہے۔ منہ