منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 581

منن الرحمٰن — Page 156

روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحمن المطهرين وجميع عباد الله الصالحين اما بعد فيقول عبد الله الاحد اور طاہر ہیں اور تمام خدا کے نیک بندوں پر۔ اس کے بعد خدائے واحد کا بندہ بقیه حاشیه : ہم ہرگز مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے لغت تراشیں بلکہ ہمیں انہیں الفاظ کی پیروی لازم ہے جو قدیم سے خدا کی طرف سے چلے آئے ہیں پس اس تحقیق سے ظاہر کہ اب یعنی باپ کا لفظ خدائے تعالیٰ کی نسبت استعمال کرنا ایک سوء ادب اور جو میں داخل ہے اور جن لوگوں نے حضرت مسیح کی نسبت یہ الزام گھڑا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو آب کر کے پکارتے تھے اور در حقیقت جناب الہی کو اپنا باپ ہی یقین رکھتے تھے انہوں نے نہایت مکروہ اور جھوٹا الزام ابن مریم پر لگایا ہے کیا کوئی معقل تجویز کر سکتی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح ایسی نادانی کے مرتکب ہوئے کہ جو لفظ اپنے لغوی معنوں کی رو سے ایسا حقیر اور ذلیل ہو جس میں ناطاقتی اور کمزوری اور بے اختیاری ہریک پہلو سے پائی جائے وہی لفظ حضرت مسیح اللہ جل شانہ کی نسبت اختیار کریں۔ ابن مریم علیہ السلام کو یہ اختیار ہرگز نہیں تھا کہ اپنی طرف سے لغت تراشی کریں اور لغت تراشی بھی ایسی بے ہودہ جس سے سراسر جہالت ثابت ہو۔ پس جس حالت میں لغت نے اب یعنی باپ کے لفظ کو اس سے زیادہ وسعت نہیں دی کہ کسی نر کا نطفہ مادہ کے رحم میں گرے اور پھر وہ نطفہ نہ گرانے والے کی کسی طاقت سے بلکہ ایک اور ذات کی قدرت سے رفتہ رفتہ ایک جاندار مخلوق بن جائے تو وہ شخص جس نے نطفہ گرایا تھا لغت کی رو سے آب یا باپ کے نام سے موسوم ہوگا اور آب کا لفظ ایک ایسا حقیر اور ذلیل لفظ ہے کہ اس میں کوئی حصہ پرورش یا ارادہ یا محبت کا شرط نہیں ۔ مثلاً ایک بکرا جو بکری پر جست کر کے نطفہ ڈال دیتا ہے یا ایک سانڈ بیل جو گائے پر جست کر کے اور اپنی شہوات کا کام پورا کر کے پھر اس سے علیحدہ بھاگ جاتا ہے جس کے یہ خیال میں بھی نہیں ہوتا ہے کہ کوئی بچہ پیدا ہو۔ یا ایک سور جس کو شہوات کا نہایت زور ہوتا ہے اور بار بار وہ اسی کام میں لگا رہتا ہے اور کبھی اس کے خیال میں بھی نہیں ہوتا کہ اس بار بار کے شہوانی جوش سے یہ مطلب ہے کہ بہت سے بچے پیدا ہوں اور خنز بر زادے زمین پر کثرت سے پھیل جائیں اور نہ اس کو فطرتی طور پر یہ شعور دیا گیا ہے۔ تاہم اگر بچے پیدا ہو جائیں تو بلاشبہ سو رو غیر ہ اپنے اپنے بچوں کے باپ کہلائیں گے۔ اب جبکہ اب کے لفظ یعنی باپ کے لفظ میں دنیا کی تمام لغتوں کی رو سے یہ معنی ہرگز مراد نہیں کہ وہ باپ نطفہ ڈالنے کے بعد پھر بھی نطفہ کے متعلق کچھ کارگذاری کرتا رہے تا بچہ پیدا ہو جائے یا ایسے کام کے وقت میں یہ ارادہ بھی اس کے دل میں ہو اور نہ کسی مخلوق کو ایسا اختیار دیا گیا ہے بلکہ باپ کے لفظ میں بچہ پیدا ہونے کا