منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 581

منن الرحمٰن — Page 150

روحانی خزائن جلد ؟ ۱۵۰ منن الرحمن والــجـــان۔ تسجد له الارواح والابدان۔ والـقـلـب واللسان ہیں۔ روحیں اور بدن اس کو سجدہ کرتی ہیں۔ دل اور زبان اس کی تعریف بقیه حاشیه : فرق اور مرکبات کا خارق عادت ایجاز ظاہر کرنے کے لئے بطور ایسے اعجاز کے بھیجا کہ تمام گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور عربی کی بلاغت کو اس کے مفردات اور مرکبات کی نسبت جو کچھ قرآن نے ظاہر کیا اس کو اس وقت کے اعلیٰ درجہ کے زبان دانوں نے نہ صرف قبول ہی کیا بلکہ مقابلہ سے عاجز آ کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ انسانی قوتیں ان حقائق اور معارف کے بیان کرنے اور زبان کا سچا اور حقیقی حسن دکھلانے سے عاجز ہیں اسی مقدس کلام سے رحمان اور رحیم کا بھی فرق معلوم ہوا جس کو ہم نے بطور نمونہ خطبہ مذکورہ میں لکھا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ ہر یک زبان میں بہت سے مترادف الفاظ پائے جاتے ہیں لیکن جب تک آنکھ کھول کر ان کے باہمی فرقوں پر اطلاع نہ پاویں اور وہ الفاظ علم الہی اور دینی تعلیم میں سے نہ ہوں تب تک ان کو علمی مد میں شمار نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی یادر ہے کہ انسان اپنی طرف سے ایسے مفردات پیدا نہیں کر سکتا ہاں اگر قدرت قادر سے پیدا شدہ ہیں تو ان میں غور کر کے ان کے باریک فرق اور محل استعمال معلوم کر سکتا ہے مثلاً 1 صرف اور نحو کے بانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے کوئی نئی بات نہیں نکالی اور نہ نئے قواعد بنا کر کسی کو ان پر چلنے کے لئے مجبور کیا بلکہ اسی طبیعی بولی کو ایک بیدار نظر کے ساتھ دیکھ کر تاڑ گئے کہ یہ بول چال قوائد کے اندر آ سکتی ہے۔ جب مشکلات کے سہل کرنے کے لئے قواعد کی بنا ڈالی سوقرآن کریم نے ہر ایک لفظ کو اپنے محل پر رکھ کر دنیا کو دکھلا دیا کہ عربی کے مفردات کس کس محل پر استعمال پاتے ہیں اور کیسے وہ الہیات کے خادم اور نہایت دقیق امتیاز باہمی رکھتے ہیں اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ قرآن کریم دل قسم کے نظام مفردات پر مشتمل ہے۔ (1) ایسے مفردات کا نظام جن میں بیان وجود باری اور دلائل وجود باری اور نیز خدا تعالیٰ کی ایسے صفات اور اسماء اور افعال اور سنن اور عادات کا بیان ہے کہ جو باہمی امتیازوں کے ساتھ اللہ جلّ شانہ کی ذات سے مخصوص ہیں اور نیز وہ کلمات جو اس کی اس کامل مدح اور ثناء کے متعلق ہیں جو بیان جلال اور جمال اور عظمت اور کبریائی کے بارے میں ہیں۔ (۲) ان مفردات کا نظام جو تو حید باری اور دلائل توحید باری پر مشتمل ہیں ۔ بقیه حاشیه : یہ ترکیب پارسیوں کی بسم اللہ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتی غالباً یہ الفاظ پیچھے سے بطور سرقہ لکھے گئے ہیں بہر حال بی نقص دلالت کرتا ہے کہ میانسان کا قول ہے۔ منہ