منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 581

منن الرحمٰن — Page 149

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۴۹ منن الرحمن هو الذي نـطـق بــحـمـده الثقلان و اقر بربوبيته الانس وہی ہے جس کی حمد آدمی اور جن کر رہے ہیں۔ اور اس کے رب ہونے کا اقرار کرتے بقیه حاشیه : پس واضح ہو کہ پہلی قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان عربی میں خدا تعالیٰ کو رحمن کہتے ہیں اور دوسری قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان موصوف میں اس کا نام رحیم ہے اسی خوبی کے دکھلانے کے لئے ہم عربی خطبہ کی پہلی ہی سطر میں رحمان کا لفظ لائے ہیں۔ اب اس نمونہ سے دیکھ لو کہ چونکہ یہ رحم کی صفت اپنی ابتدائے تقسیم کے لحاظ سے الہی قانون قدرت کے دو قسم پر مشتمل تھی۔ لہذا اس کے لئے زبان عربی میں دو مفرد لفظ ۵ موجود ہیں اور یہ قاعدہ طالب حق کے لئے نہایت مفید ہوگا کہ ہمیشہ عربی کے باریک فرقوں کے پہچاننے کے لئے صفات اور افعال الہیہ کو جو صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں معیار قرار دیا جائے اور ان کے اقسام کو جو قانون قدرت سے ظاہر ہوں عربی کے مفردات میں ڈھونڈا جائے اور جہاں کہیں عربی کے ایسے مترادف لفظوں کا باہمی فرق ظاہر کرنا مقصود ہو جو صفات یا افعال الہی کے متعلق ہیں تو صفات یا افعال الہی کی اس تقسیم کی طرف متوجہ ہوں جو نظام قانون قدرت دکھلا رہا ہے کیونکہ عربی کی اصل غرض الہیات کی خدمت ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی اصل غرض معرفت باری تعالیٰ ہے اور ہر یک چیز جس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی غرض کو سامنے رکھ کر اس کے عقدے کھل سکتے ہیں اور اس کے جو ہر معلوم ہو سکتے ہیں مثلاً بیل صرف کلبہ رانی اور بارکشی کے لئے پیدا کیا گیا ہے پس اگر اس غرض کو نظر انداز کر کے اس سے وہ کام لینا چاہیں جو شکاری کتوں سے لیا جاتا ہے تو بے شک وہ ایسے کام سے عاجز آ جائے گا اور نہایت نکما اور ذلیل ثابت ہوگا لیکن اگر اصلی کام کے ساتھ اس کی آزمائش کریں تو وہ بہت جلد اپنے وجود کی نسبت ثابت کرے گا کہ سلسلہ و سائل معیشت دنیوی کا ایک بھاری بوجھ اس کے سر پر ہے غرض ہر یک چیز کا ہنر اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب اس کا اصلی کام اس سے لیا جائے سو عربی کے ظہور اور بروز کا اصلی مقصود الہیات کا روشن چہرہ دکھلانا ہے مگر چونکہ اس نہایت باریک اور دقیق کام کا ٹھیک ٹھیک انجام دینا اور غلطی سے محفوظ رہنا انسانی طاقتوں سے بڑھ کر تھا۔ لہذا خداوند کریم اور رحیم نے قرآن کریم کو عربی زبان کی بلاغت و فصاحت دکھلانے کے لئے اور مفردات کے نازک کتاب دسا تیر مجوس میں یہ فقرات ہیں' بنام ایزدبخشا ئند ہ بخشائش گر مہر بان دا دگر “ جو بظا ہر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے مشابہ ہیں لیکن جو لفظ رحمان اور رحیم میں پر حکمت فرق ہے وہ فرق ان لفظوں میں موجود نہیں اور جو اللہ کا اسم وسیع معنی رکھتا ہے وہ ایزد کے لفظ میں ہرگز پائے نہیں جاتے ۔ لہذا