منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 581

منن الرحمٰن — Page 147

روحانی خزائن جلد ؟ ۱۴۷ منن الرحمن في البلدان۔ كما جعل من لون واحد انواع الالوان۔ وجعل دیں۔ جیسا کہ ایک رنگ سے کئی رنگ انواع اقسام کے بنا دیئے اور عربی کر بقیه حاشیه: الہیہ کے نازک اور باریک فرقوں کو جو صحیفہ فطرت میں نمودار ہیں اور ایسا ہی تو حید کے دلائل کو جو اسی صحیفہ سے مترشح ہیں اور خدا تعالیٰ کے انواع اقسام کے ارادوں کو جو اس کے بندوں سے متعلق اور صحیفہ قدرت میں نمایاں ہیں ایسے طور سے ظاہر کر دیتی ہے کہ گویا ان کا ایک نہایت لطیف نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیتی ہے اور ان دقیق (۳) کھا امتیازوں کو جو خدا تعالیٰ کے اسماء اور صفات اور افعال اور ارادوں میں واقع ہیں جن کی شہادت اس کا قانون قدرت دے رہا ہے ایسی صفائی سے دکھا دیتی ہے کہ گویا ان کی تصویر کو آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے چنانچہ یہ بات بہداہت معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی صفات اور افعال اور ارادوں کی چہرہ نمائی اور نیز اپنے فعل اور قول کی تطبیق کے لئے زبان عربی کو ایک متکفل خادم پیدا کیا ہے اور ازل سے یہی چاہا ہے کہ الہیات کے سر مکتوم اور مقفل کے لئے یہی زبان کنجی ہو۔ اور جب ہم اس نکتہ تک پہنچتے ہیں اور یہ مجیب عظمت اور خصوصیت عربی کی ہم پر ھلتی ہے تو دوسری تمام زبانیں سخت تاریکی اور نقصان میں پڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ جس طرح زبان عربی صفات الہیہ اور اس کی تمام تعلیموں کے لئے مرایا متقابلہ کی طرح واقع ہے اور الہیات کے قدرتی نقشہ کا ایک سیدھا انعکاسی خط عربی میں پڑا ہوا دکھائی دیتا ہے یہ صورت کسی دوسری زبان میں ہر گز موجود نہیں اور جب ہم عقل سلیم اور فہم مستقیم سے صفات الہیہ کی اس تقسیم پر نظر ڈالتے ہیں جو قدیم سے اور ازل سے صحیفہ عالم میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے تو وہی تقسیم عربی کے مفردات میں ہمیں ملتی ہے مثلاً جب ہم غور کرتے ہیں کہ خدا تعالی کا رحم عقلی تحقیق کی رو سے اپنی ابتدائی تقسیم میں کتنے حصوں پر مشتمل ہوسکتا ہے تو اس قانون قدرت کو دیکھ کر جو ہماری نظر کے سامنے ہے صاف طور پر ہمیں سمجھ آ جاتا ہے کہ وہ رحم دو قسم پر ہے یعنی قبل از عمل و بعد از عمل کیونکه بنده پروری کا نظام بآواز بلند گواہی دے رہا ہے کہ رحمت الہی نے دو قسم سے اپنی ابتدائی تقسیم کے لحاظ سے بنی آدم پر ظہور و بروز فرمایا ہے۔ اول وہ رحمت جو بغیر وجود عمل کسی عامل کے بندوں کے ساتھ شامل ہوئی جیسا کہ زمین اور آسمان اور شمس اور قمر اور ستارے اور پانی اور ہوا اور آگ اور وہ تمام نعمتیں جن پر انسان کی بقا اور حیات موقوف ہے کیونکہ بلاشبہ یہ تمام چیزیں انسان کے لئے رحمت ہیں جو بغیر کسی استحقاق کے محض فضل اور احسان کے طور سے اس کو عطا ہوئی ہیں اور یہ ایسا فیض خاص ہے جو انسان کے سوال کو بھی اس میں دخل نہیں بلکہ اس کے وجود سے بھی پہلے ہے اور یہ چیزیں ایسی بزرگ رحمت ہے جو