منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 581

منن الرحمٰن — Page 146

روحانی خزائن جلد ؟ ۱۴۶ منن الرحمن الانسان علمه البيان۔ ثم جعل من لسان واحدة السنة پیدا کیا اور اس کو بولنا سکھلایا پھر ایک زبان سے کئی زبانیں شہروں میں بقیه حاشیه : ایک نظر غور ڈالنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا تمام سلسلہ انواع اقسام کے پیرایوں میں اسی کام میں لگا ہوا ہے کہ تا وہ خدا تعالیٰ کے پہچانے اور اس کی راہوں کے جاننے میں ایک ذریعہ ہو پس چونکہ عربی زبان خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی اور اس کے منہ سے نکلی ہے لہذا ضرور تھا کہ اس میں بھی یہ علامت موجود ہوتا یقینی طور پر شناخت کیا جائے کہ وہ فی الواقعہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی کوششوں کے محض خدائے تعالی سے ظہور پذیر ہوئی ہیں سو الحمد لله والمنہ کہ عربی زبان میں یہ علامت نہایت بدیہی اور صاف طور پر پائی جاتی ہے اور جیسا کہ انسان کے اور قومی کی نسبت مضمون آیة وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ثابت و متحقق ہے اسی طرح عربی زبان میں جو انسان کی اصلی زبان اور اس کی جز وخلقت ہے یہی حقیقت ثابت ہے اس میں کیا شک ہے کہ انسان کی خلقت اسی حالت میں اتم اور اکمل ٹھہر سکتی ہے کہ جب کلام کی خلقت بھی اس میں داخل ہو کیونکہ وہ چیز جو انسانیت کے جوہر کی چہرہ نما ہے وہ کلام ہی ہے اور کچھ مبالغہ نہ ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ انسانیت سے مراد یہی نطق اپنے تمام لوازم کے ساتھ ہے پس خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ میں نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لئے پیدا کیا ہے در حقیقت دوسرے لفظوں میں یہ بیان ہے کہ میں نے انسانی حقیقت کو جو نطق اور کلام ہے معہ اس کے تمام قومی اور افعال کے جو اس کے زیر حکم چلتے ہیں اپنے لئے بنایا ہے کیونکہ جب ہم سوچتے ہیں کہ انسان کیا چیز ہے تو صریح یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک جاندار ہے کہ جو اپنی کلام سے دوسرے جانوروں سے تمیز کلی رکھتا ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ کلام انسان کی اصل حقیقت ہے اور باقی قوی اس حقیقت کے تابع اور خادم ہیں۔ پس اگر یہ کہیں کہ انسان کا کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ انسان کی انسانیت خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں لیکن ظاہر ہے کہ خدا انسان کا خالق ہے اس لئے زبان کا معلم بھی وہی ہے اور اس جھگڑے کے فیصلے کے لئے کہ وہ کس زبان کا معلم ہے ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اس کی طرف سے وہی زبان ہے کہ جو ہو جب منطوق وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَ وَالْإِنس إلا لِيَعْبُدُونِ " اس طرح معرفت الہی کی خادم ہو سکتی ہے جیسا کہ انسان کے وجود کی دوسری بناوٹ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان صفات سے موصوف صرف عربی ہی ہے اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ معرفت ہاری تک پہنچانے کے لئے اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتی ہے جو الہیات کی ایک معنوی تقسیم کو جو قانون قدرت میں پائی جاتی ہے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے مفردات میں دکھاتی ہے اور صفات الذاريات: ۵۷