منن الرحمٰن — Page 148
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۴۸ منن الرحمن الـعـربـيـة أمــا لـكل لسان۔ وجعلها كالشمس بالضوء واللمعان۔ کو ہر یک زبان کی ماں ٹھہرایا۔ اور اس کو چمک اور روشنی میں سورج کی طرح بنا دیا صفیه حاشیه: انسان کی زندگی انہیں پر موقوف ہے اور پھر با وصف اس کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں انسان کے کسی نیک عمل سے پیدا نہیں ہوئیں بلکہ انسانی گناہ کا علم بھی جو خدا تعالیٰ کو پہلے سے تھا ان رحمتوں کے ظہور سے مانع نہیں ہوا اور کوئی اواگون کا قائل یا تاریخ کا ماننے والا کو کیسا ہی اپنے تعصب اور جہالت میں غرق ہو مگر یہ بات تو وہ منہ پر نہیں لا سکتا کہ یہ انسان ہی کے نیک کاموں کا پھل اور نتیجہ ہے کہ اس کے آرام کے لئے زمین پیدا کی گئی یا اس کی تاریکی دور کرنے کے لئے آفتاب اور ماہتاب بنایا گیا یا اس کے کسی نیک عمل کی جزا میں پانی اور اناج پیدا کیا گیا یا اس کے کسی زہد اور تقویٰ کے پاداش میں سانس لینے کے لئے ہوا بنائی گئی کیونکہ انسان کے وجود اور زندگی سے بھی پہلے یہ چیزیں موجود ہو چکی ہیں۔ اور جب تک ان چیزوں کا وجود پہلے فرض نہ کر لیں تب تک انسان کے وجود کا خیال بھی ایک خیال محال ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ یہ چیزیں جن کی طرف انسان اپنے وجود اور حیات اور بقا کے لئے محتاج تھا وہ انسان کے بعد ظہور میں آئی ہوں پھر خود انسانی وجود جس احسن طور کے ساتھ ابتدا سے تیار کیا گیا ہے یہ تمام وہ باتیں ہیں جو انسان کی تکمیل سے پہلے ہیں اور یہی ایک خاص رحمت ہے جس میں انسان کے عمل اور عبادت اور مجاہدہ کو کچھ بھی دل نہیں۔ دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جو انسان کے اعمال حسنہ پر مترتب ہوتی ہے کہ جب وہ تضرع سے دعا کرتا ہے تو قبول کی جاتی ہے اور جب وہ محنت سے تخم ریزی کرتا ہے تو رحمت الہی اس تخم کو بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ایک بڑا ذخیرہ اناج کا اس سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر غور سے دیکھ تو ہمارے ہر یک عمل صالح کے ساتھ خواہ وہ دین سے متعلق ہے یا دنیا سے رحمت الہی لگی ہوئی ہے اور جب ہم ان قوانین کے لحاظ سے جو الہی سنتوں میں داخل ہیں کوئی محنت دنیا یا دین کے متعلق کرتے ہیں تو فی الفور رحمت الہی ہمارے شامل حال ہو جاتی ہے اور ہماری محنتوں کو سرسبز کر دیتی ہے یہ دونوں رحمتیں اس قسم کی ہیں کہ ہم ان کے بغیر جی ہی نہیں سکتے ۔ کیا ان کے وجود میں کسی کو کلام ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو اصلی بدیہیات میں سے ہیں جن کے ساتھ ہماری زندگی کا تمام نظام چل رہا ہے پس جبکہ ثابت ہو گیا کہ ہماری تربیت اور تحمیل کے لئے دورحمتوں کے دو چشمے قادر کریم نے جاری کر رکھے ہیں اور وہ اس کی دو صفتیں ہیں جو ہمارے درخت وجود کی آبپاشی کے لئے دورنگوں میں ظاہر ہوئے ہیں تو اب دیکھنا چاہیے کہ وہ دو چشمے زبان عربی میں منعکس ہو کر کس کس نام سے پکارے گئے ہیں