منن الرحمٰن — Page 145
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۴۵ منن الرحمن یہ وہ پہلا خطبہ اور تمہید ہے جس کا مقابلہ نظام مفردات میں سنسکرت کے مدعی آریہ اور دوسری (۱۸) قوموں سے مطلوب ہے باشر الحالي ☆ الحمد لله الرّب الرّحمان ۔ ذى المجد و الفضل و الاحسان خلق تمام تعریفیں اس اللہ کو جو رب اور رحمن ہے۔ بزرگی اور فضل اور احسان ای کی صفات ہیں۔ انسان م چونکہ اصلی فرض عربی عبارتوں کے املا سے یہ دکھلانا ہے کہ یہ زبان علاوہ اس صفت خاص کے کہ الہیات اے اور دینی تعلیم کے تمام شاخوں کی کامل طور پر خادم ہے ہر ایک قصہ اور خطبہ اور مبادی اور مقاصد کے بیان کرنے میں اور ہر یک نازک سے نازک مضمون کے ادا کرنے کے وقت صرف مفردات سے کام لیتی ہے۔ اور اس کے خزانہ میں وہ مفردات کا نظام موجود ہے جو ہر ایک قصہ کے نظام سے برابر آ جاتا ہے اور مرکبات کی طرف حاجت نہیں پڑتی اس لئے ہم نے اس خطبہ اور تمہید کے وقت اور ایسا ہی اور چند مضامین میں جو بعد میں آئیں گے یہ ارادہ کیا ہے کہ ناظرین کو عربی کی ان صفات خاصہ کی طرف توجہ دلاویں تا اگر ممکن ہو تو ہمارے مخالف اس کا مقابلہ کر کے دکھلاویں اور اگر ہو سکے تو اپنی زبان کو اس دھبہ سے پاک کر دیں کہ وہ ہر یک امرذی شان کے بیان کرنے میں صرف مفردات سے کار براری کرنے سے قاصر ہے اور ایسانہ کرسکیں تو گووہ سنسکرت کے حامی ہوں یا کسی اور زبان کے انہیں اس بات سے شرم کرنی چاہیے کہ وہ کبھی کسی مجلس میں عربی زبان کے مقابل پر اپنی زبانوں کا نام بھی لیویں یا کبھی بھولے بسرے بھی منہ پر لاویں کہ ہماری زبان الہی زبان ہے اور اسی میں خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ اب واضح ہو کہ اس خطبہ اور تمہید میں تین سو کھلے ہیں جو کلمات مفروہ ہیں اور بعض ایسے کلے ہم نے چھوڑ بھی دیئے ہیں جو ایک ہی مادہ سے نکلے ہیں اور یہ کلمات صد با عجائب اور لطائف پر مشتمل ہیں اور اگر ہم ان کے عجائب خواص کا بیان کریں تو ان تمام کا لکھنافی الواقعہ ایک دفتر چاہتا ہے لہذا ہم اس جگہ بالفعل صرف دو لفظ کی خوبیاں بطور نمونہ پیش کریں گے۔ اور پھر وقتاً فوقتاً انشاء اللہ پیش کرتے جائیں گے لیکن پہلے اس سے اس نہایت مفید قاعدہ کا لکھنا واجبات سے ہے کہ صحیفہ قدرت پر نظر ڈالنے سے یہ بات ضروری طور پر مانتی پڑتی ہے کہ جو چیزیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا ہو ئیں یا اس سے صادر ہوئیں ان کی اول علامت یہی ہے کہ اپنے اپنے مرتبہ کے موافق خداشناسی کی راہوں کے خادم ہوں اور اپنے وجود کی اصلی غرض بزبان قال یا حال یہی ظاہر کریں کہ وہ معرفت باری کا ذریعہ اور اسی کی راہ کے خادم ہیں کیونکہ تمام مخلوقات کی افراد پر