معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 581

معیارالمذاہب — Page 500

۔اے بے خبر جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں تو دیکھتے وقت تو ایک کو کیوں ڈھانک لیتا ہے۔ذرا اس ذلیل دنیا پر نظر ڈال کہ کس طرح تو اس کے پیچھے سرگرداں پھر رہا ہے۔جو کچھ بھی سامان اور عزت تیرے پاس ہے وہ تجھے بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوئی۔ایک لمبے عرصہ کی کوشش درکار ہے تا کہ تو اپنی کھیتی سے روٹی کھائے صفحہ ۲۵۶۔جب قانون قدرت ایسا ہی واقع ہوا ہے پس آخرت کی کھیتی کے لئے بھی یہی بات یاد رکھ۔رب العالمین قادر خدا نے کیا خوب فرمایا ہے کہ انسان کو اپنی کوشش کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔اگر تو سنے تو اسی مطلب کا مضمون وہ بھی ہے جو مثنوی میں مولوی معنوی کی یادگار ہے۔کہ گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتا ہے اور جو سے جو پس تو عمل کے بدلہ سے غافل نہ ہو۔جس نے کفارہ پر دل جما لیا اُس نے عقل اور دین دونوں کو برباد کر دیا۔دین اور دنیا محنت اور تلاش کو چاہتے ہیں جا تو بھی اس کی راہ میں کوشش کر اور نادان نہ بن صفحہ ۳۰۸۔خدا کی وحی اشاروں سے بھری ہوئی ہوتی ہے اگر کوئی جاہل اور کم فہم نہ سمجھے تو یہ عین ممکن ہے۔خدا کی وحی فیضان کا ایک چشمہ ہے لیکن اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔قرآنی وحی میں بکثرت اسرار ہیں مناسبت ہونی چاہیے تا کہ کوئی اسے سمجھ سکے۔دین کے لئے پہلے مناسبت ہونی ضروری ہے۔بغیر مناسبت کے کام ٹھیک نہیں بیٹھتا۔وہ سعید انسان جس کا نام ابوبکر ہے وہ آنحضرتؐ کے ساتھ ایک نسبت) یعنی باطنی تعلق(رکھتا تھا۔اس وجہ سے وہ کسی لمبی تحقیقات کا محتاج نہ ہوا۔اُس کی جان نے ایک پاکباز کے چہرہ کو پہچان لیا۔اے سعید انسان! نظر نظر میں فرق ہوتا ہے جو ہارون نے دیکھ لیا وہ قارون نہ دیکھ سکا۔ہارون ایک پاک انسان تھا اور قارون ایک گندہ کیڑا۔بایزیدؒ یزید سے کس طرح برابر ہو سکتا ہے صفحہ ۳۰۹۔اگر کسی کو مقامِ مقصود کا پتہ نہ ہو تو وہ ہر قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے