معیارالمذاہب — Page 501
۔ایک کو چاند صاف نظر آتا ہے۔دوسرے کو اَبرنے اندھا اور بہرا کر رکھا ہے۔ایک تو دل رُبا محبوب کے ساتھ بیٹھا ہے اور دوسرا نابینائی کی وجہ سے مخالفت اور انکار میں مبتلا ہے۔چاند ابر کے وقت نظر نہیں آیا کرتا اسی طرح صدیق بھی کافر کی آنکھ کو دکھائی نہیں دیتا۔اے بھائی صبرسے کوشش کر خبر دار! سرکشی اختیار مت کر نرم مزاج بن۔اے وہ کہ جس نے ہماری تکفیر پر کمر باندھ رکھی ہے تیرا اپنا گھر تو ویران ہے مگر تو اور وں کی فکر میں پڑا ہوا ہے۔لاکھوں کفر تو تیری اپنی جان کے اندر چھپے ہوئے ہیں بھلا تو اور وں کے کفر پر کیوں روتا ہے۔اُٹھ اور پہلے اپنے تئیں ٹھیک کر۔معترض کے لئے پہلے چشم بصیرت ہونی چاہیے۔اگر کوئی لعنتی ہم پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت ہم پر نہیں پڑتی وہ تو خود اپنے تئیں ذلیل کرتا ہے۔ظالموں کی لعنت کا برداشت کرنا آسان ہے اصلی لعنت تو وہ ہے جو رحمان کی طرف سے آئے صفحہ ۳۱۰۔اگر چمگادڑ جیسی آنکھوں والے دن کے وقت نہ دیکھ سکیں تو روشنی کے سر چشمہ سورج کا کیا قصور صفحہ ۳۸۸۔بد ذات آدمی غلط کام کرنے سے نہیں چوکتا صفحہ ۴۵۲۔دیکھو راستہ کا فرق کہاں سے کہاں تک ہے صفحہ ۴۵۷۔میں دیکھتا ہوں کہ محمد حسین نے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں لیکن وہ پرزہ پرزہ ہیں۔وہ پیراہن علم ہے کہ جو ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔اسے کہنا چاہیے کہ توبہ کرے۔صفحہ ۴۵۸۔اگر تو آج میری اس نصیحت کو نہیں سنتا تو یقین رکھ کہ کل تجھ کو پچھتاوا ہوگا