مسیح ہندوستان میں — Page 9
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۹ مسیح ہندوستان میں سے منافقانہ زندگی بسر کرنی پڑتی ہے یہاں تک کہ غیر قوم کے حکام کے ساتھ بھی کچی اطاعت کے سے ساتھ پیش آنا محال ہو جاتا ہے بلکہ دروغ گوئی کے ذریعہ سے ایک جھوٹی اطاعت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک برٹش انڈیا میں اہل حدیث کے بعض فرقے جن کی طرف ہم ابھی اشارہ کر آئے ہیں گورنمنٹ انگریزی کے ماتحت دو رویہ طرز کی زندگی بسر کر رہے ہیں یعنی پوشیدہ طور یر عوام کو وہی خونریزی کے زمانہ کی امیدیں دیتے ہیں اور خونی مہدی اور خونی مسیح کے انتظار میں ہیں اور اسی کے مطابق مسئلے سکھاتے ہیں اور پھر جب حکام کے سامنے جاتے ہیں تو ان کی خوشامد میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایسے عقیدوں کے مخالف ہیں لیکن اگر سچ مچ مخالف ہیں تو کیا وجہ کہ وہ اپنی تحریرات کے ذریعہ سے اس کی عام اشاعت نہیں کرتے اور کیا وجہ کہ وہ آنے والے خونی مہدی اور مسیح کی ایسے طور سے انتظار کر رہے ہیں کہ گویا اس کے ساتھ شامل ہونے کے لئے دروازے پر کھڑے ہیں۔ غرض ایسے اعتقادات سے اس قسم کے مولویوں کی اخلاقی حالت میں بہت کچھ تنزل پیدا ہو گیا ہے اور وہ اس لائق نہیں رہے کہ نرمی اور صلح کاری کی تعلیم دے سکیں بلکہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو خواہ نخواہ قتل کرنا دینداری کا ایک بڑا فرض سمجھا گیا ہے۔ ہم اس سے بہت خوش ہیں کہ کوئی فرقہ اہل حدیث میں سے ان غلط عقیدوں کا مخالف ہو۔ لیکن ہم اس بات کو افسوس کے ساتھ بیان کرنے سے رُک نہیں سکتے کہ اہل حدید ی کے فرقوں میں سے وہ چھپے وہابی بھی ہیں جو خونی مہدی اور جہاد کے مسائل کو مانتے ہیں اور طریق صحیح کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور کسی موقع کے وقت میں دوسرے مذاہب کے تمام لوگوں کو قتل کر دینا بڑے ثواب کا طریق خیال کرتے ہیں حالانکہ یہ عقائد یعنی اسلام کے لئے قتل یا ایسی پیشگوئیوں پر عقیدہ رکھنا کہ گویا کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آئے گا اور خونریزی اور خونریزی کی دھمکیوں سے اسلام کو ترقی دینا چاہے گا قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے بالکل مخالف ہیں۔ ہمارے ہ اہل حدیث میں سے بعض بڑی گستاخی اور ناحق شناسی سے اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ عنقریب مہدی پیدا ہونے والا ہے اور وہ ہندوستان کے بادشاہ انگریزوں کو اپنا اسیر بنائے گا اور اس وقت عیسائی بادشاہ گرفتار ہو کر اس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ کتابیں اب تک ان اہل حدیث کے گھروں میں موجود ہیں۔ منجملہ ان کے کتاب اقتراب الساعۃ ایک بڑے مشہور اہل حدیث کی تصنیف ہے جس کے صفحہ ۶۴ میں یہی قصہ لکھا ہے۔ منہ