مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 8

روحانی خزائن جلد ۱۵ Δ مسیح ہندوستان میں اور نہ کسی دوسری گورنمنٹ کے نیچے بچی اور کامل اطاعت اور وفاداری سے بسر کر سکتے ہیں اور ہر ایک عظمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا عقیدہ سخت اعتراض کی جگہ ہے کہ غیر قوموں پر اس قدر جبر کیا جائے کہ یا تو بلا توقف مسلمان ہو جائیں اور یا قتل کئے جائیں۔ اور ہر ایک کانشنس بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ قبل اس کے کہ کوئی شخص کسی دین کی سچائی کو سمجھ لے اور اس کی نیک تعلیم اور خوبیوں سے مطلع ہو جائے یونہی جبر اور اکراہ اور قتل کی دھمکی سے اس کو اپنے دین میں داخل کرنا سخت نا پسندیدہ طریقہ ہے اور ایسے طریقہ سے دین کی ترقی تو کیا ہوگی بلکہ برعکس اس کے ہر ایک مخالف کو اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اور ایسے اصولوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نوع انسان کی ہمدردی بکنی دل سے اٹھ جائے اور رحم اور انصاف جو انسانیت کا ایک بھاری خلق ہے نا پدید ہو جائے اور بجائے اُس کے کینہ اور بداندیشی بڑھتی جائے اور صرف درندگی باقی رہ جائے اور اخلاق فاضلہ کا نام ونشان نہ رہے۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسے اصول اس خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتے جس کا ہر ایک مواخذہ اتمام حجت کے بعد ہے۔ سوچنا چاہئیے کہ اگر مثلاً ایک شخص ایک بچے مذہب کو اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سچائی اور اس کی پاک تعلیم اور اس کی خوبیوں سے ہنوز نا واقف اور بے خبر ہے تو کیا ایسے شخص کے ساتھ یہ برتا ؤ مناسب ہے کہ بلا توقف اس کو قتل کر دیا جائے بلکہ ایسا شخص قابلِ رحم ہے اور اس لائق ہے کہ نرمی اور خلق سے اُس مذہب کی سچائی اور خوبی اور روحانی منفعت اُس پر ظاہر کی جائے نہ یہ کہ اس کے انکار کا تلوار یا بندوق سے جواب دیا جائے ۔ لہذا اس زمانہ کے ان اسلامی فرقوں کا مسئلہ جہاد اور پھر اُس کے ساتھ یہ تعلیم کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک خونی مہدی پیدا ہوگا جس کا نام امام محمد ہو گا اور مسیح اس کی مدد کے لئے آسمان سے اترے گا اور وہ دونوں مل کر دنیا کی تمام غیر قوموں کو اسلام کے انکار پر قتل کر دیں گے ۔ نہایت درجہ اخلاقی مسئلہ کے مخالف ہے۔ کیا یہ وہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو انسانیت کے تمام پاک قومی کو معطل کرتا اور درندوں کی طرح جذبات پیدا کر دیتا ہے اور ایسے عقائد والوں کو ہر ایک قوم