مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 10

مسیح ہندوستان میں روحانی خزائن جلد ۱۵ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں اور پھر بعد اس کے بھی کفار کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا اور بالخصوص مکہ کے تیرہ برس اس مصیبت اور طرح طرح کے ظلم اٹھانے میں گذرے کہ جس کے تصور سے بھی رونا آتا ہے لیکن آپ نے اس وقت تک دشمنوں کے مقابل پر تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے سخت کلمات کا سخت جواب دیا جب تک کہ بہت سے صحابہ اور آپ کے عزیز دوست بڑی بے رحمی سے قتل کئے گئے اور طرح طرح سے آپ کو بھی جسمانی دکھ دیا گیا اور کئی دفعہ زہر بھی دی گئی۔ اور کئی قسم کی تجویز مں قتل کرنے کی کی گئیں جن میں مخالفوں کو نا کامی رہی جب خدا کے انتقام کا وقت آیا تو ایسا ہوا کہ مکہ کے تمام رئیسوں اور قوم کے سر بر آوردہ لوگوں نے اتفاق کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہر حال اس شخص کو قتل کر دینا چاہئیے ۔ اس وقت خدا نے جو اپنے پیاروں اور صدیقوں اور راستبازوں کا حامی ہوتا ہے آپ کو خبر دے دی کہ اس شہر میں اب بجز بدی کے کچھ نہیں اور قتل پر کمربستہ ہیں یہاں سے جلد بھاگ جاؤ تب آپ بحکم الہی مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے مگر پھر بھی مخالفوں نے پیچھا نہ چھوڑا بلکہ تعاقب کیا۔ اور بہر حال اسلام کو پامال کرنا چاہا۔ جب اس حد تک ان لوگوں کی شورہ پشتی بڑھ گئی اور کئی بے گناہوں کے قتل کرنے کے جرم نے بھی ان کو سزا کے لائق بنایا تب ان کے ساتھ لڑنے کے لئے بطور مدافعت اور حفاظت خود اختیاری اجازت دی گئی اور نیز وہ لوگ بہت سے بے گناہ مقتولوں کے عوض میں جن کو انہوں نے بغیر کسی معرکہ جنگ کے محض شرارت سے قتل کیا تھا اور ان کے مالوں پر قبضہ کیا تھا اس لائق ہو گئے تھے کہ اسی طرح ان کے ساتھ اور ان کے معاونوں کے ساتھ معاملہ کیا جاتا۔ مگر مکہ کی فتح کے وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو بخش دیا لہذا یہ خیال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کبھی دین پھیلانے کے لئے لڑائی کی تھی یا کسی کو جبراً اسلام میں داخل کیا تھا سخت غلطی اور ظلم ہے ۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ اس زمانہ میں ہر ایک قوم کا اسلام کے ساتھ تعصب بڑھا ہوا تھا اور مخالف لوگ اس کو ایک فرقہ جدیدہ اور جماعت قلیلہ سمجھ کر اس کے نیست و نابود کرنے کی تدبیروں میں لگے ہوئے تھے اور ہر ایک اس فکر میں تھا