مجموعہ آمین — Page 535
29 ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر ہے اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے ۳۴۵ قرآن ذوالوجوہ ہے جس نے قرآن کی آیات کو ایک ہی پہلو پر محدود کر دیا اس نے قرآن کو نہیں سمجھا اور نہ اسے کتاب اللہ کا تفقہ حاصل ہوا ۲۴۳۔ح قرآن شریف گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل ہو رہا تھا مگر اس کا کامل وجود بھی چھٹے دن ہی بروز جمعہ اپنے کمال کو پہنچا ۲۵۰ سورۃ العصر میں عمر دنیا بتائی گئی ہے یہ قرآن کا علمی معجزہ ہے جو حضور پر ظاہر کیا گیا ۲۵۳ علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ استخفاف قرآن یا دلیل قرآن کلمہ کفر ہے ۳۹ قرآن کے دلائل کی تکذیب قرآن کی تکذیب ہے ۴۱ قرآنی دلیل صداقت کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے لیکن حافظ محمد یوسف کا اس سے انکار ۴۰ قرآنی پیشگوئی کہ ہلاک شدگان یاجوج ماجوج کے زمانہ میں پھر دنیا میں رجوع کریں گے ۲۹۷ قرآن شریف کی عظیم الشان پیشگوئی کہ جب اونٹ بیکارہو جائیں گے ۱۹۶،۱۹۷ قرآن شریف اسلام کے مسیح موعود کو موسوی مسیح موعود کا مثیل ٹھہراتا ہے نہ عین ۱۹۳ قرآن سے ثابت ہے کہ مغضوب علیھم سے مراد یہود اور ضالین سے مراد عیسائی ہیں ۲۰۰ قرآن کے شروع میں ہی سورۃ فاتحہ رکھی یہ دعا مسلمانوں کو سکھائی گئی اس کی حکمت ۲۰۱ فاتحہ میں قرآن کریم کی عظیم پیشگوئی ہے کہ عیسائی فتنہ سے بچنے کی دعا سکھلائی گئی ۲۳۰ قرآن کے آغاز اور اختتام میں فتنہ عیسائیت کا ذکر کیا گیا ہے ۲۱۸تا۲۲۰ قریش اسلام میں ۱۲خلفاء جو غلبہ اسلام کے وقت تک آتے رہیں گے وہ قریش میں سے ہوں گے ۱۲۵ مسیح موعود قریش میں سے نہیں ہوگا ۱۲۵،۱۲۶ قمر ہلال اور قمر کی بحث ۱۳۸،۱۳۹ عربی میں تین سے زائد دن کا چاند ہو تو اس کو قمر کہتے ہیں اس سے پہلے کو ہلال کہتے ہیں ۱۳۸ قیامت کس گھڑی قیامت برپا ہو گی ۲۵۰۔ح،۲۵۱۔ح کسر صلیب اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کر کے عیسائیت کے جھوٹ کے طلسم توڑ دئیے ۲۳۹ صلیب پر فتح پانا ہی کسر صلیب ہے ۲۶۶ کسوف و خسوف دیکھئے خسوف کسوف کشف ایک بزرگ کا کشف جو ایک شعر میں بیان کیا کہ چودھویں صدی کو گیارہ برس گزریں گے تو خسو ف کسوف ہو گا یہ مہدی کے ظہور کا وقت ہو گا چنانچہ ۱۳۱۱ھ میں خسوف ہوا ۱۳۲ ل۔م۔ن لعنت شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت ہے ۱۰۹ لعین شیطان کا نام ہے ۱۱۰ مامور من اللہ خدا کے مامورین کے آنے کیلئے ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کیلئے بھی ایک موسم ۵۰،۴۰۱ ان پر حقائق و معارف کھلتے اور اسرار اور سماوی علوم کے وارث کئے جاتے ہیں ابراہیمی صدق و صفا ان کو دیا جاتا ہے اور روح القدس کا سایہ ان کے دلوں پر ہوتا ہے ۱۷۰تا۱۷۳ اللہ پر افترا باندھنے والا ہلاک ہوتا ہے۔مامور من اللہ کی صداقت کی دلیل قرآن