لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 262

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۲ لیکچرلدھیانہ حیات کو گوارا ہی نہ کر سکتے تھے پھر کیوں کر اپنی آنکھوں کے سامنے آپ کو وفات یافتہ دیکھتے اور مسیح کو زندہ یقین کرتے یعنی جب حضرت ابو بکر نے خطبہ پڑھا تو ان کا جوش فرو ہو گیا۔ اس وقت صحا بہ مدینہ کی گلیوں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اُتری ہے۔ اُس وقت حسان بن ثابت نے ایک مرثیہ لکھا جس میں انہوں نے کہا كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِلْ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ چونکہ مذکورہ بالا آیت نے بتا دیا تھا کہ سب مر گئے اس لئے حسان نے بھی کہہ دیا کہ اب کسی کی موت کی پروا نہیں ۔ یقینا سمجھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی کی زندگی صحابہ پر سخت شاق تھی اور وہ ان کو گوارا نہیں کر سکتے تھے ۔ اس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ پہلا اجماع تھا جو دنیا میں ہوا اور اس میں حضرت مسیح کی وفات کا بھی کلی فیصلہ ہو چکا تھا۔ میں بار بار اس امر میں اس لئے زور دیتا ہوں کہ یہ دلیل بڑی ہی زبر دست دلیل ہے جس سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کوئی معمولی اور چھوٹا امر نہ تھا جس کا صدمہ صحابہ کو نہ ہوا ہو۔ ایک گاؤں کا نمبر دار یا محلہ دار یا گھر کا کوئی عمدہ آدمی مر جاوے تو گھر والوں، محلہ والوں یا دیہات والوں کو صدمہ ہوتا ہے پھر وہ نبی جو کل دنیا کے لئے آیا تھا اور رحمۃ للعالمین ہو کر آیا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ " اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔ قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا ۔ پھر وہ نبی جس نے صدق اور وفا کا نمونہ دکھایا اور وہ کمالات دکھائے کہ جن کی نظیر نظر نہیں آتی وہ فوت ہو جاوے۔ اس کے ان جان شار متبعین پر اثر نہ پڑے جنہوں نے اس کی خاطر جانیں دے دینے سے حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے اس “ہونا چاہیے۔(ناشر) ا الانبياء : ١٠٨ الاعراف :۱۵۹