لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 263

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۳ لیکچرلدھیانہ دریغ نہ کیا۔ جنہوں نے وطن چھوڑا ۔ خویش واقارب چھوڑے اور اس کے لئے ہر قسم کی تکلیفوں اور مشکلات کو اپنے لئے راحت جان سمجھا۔ ایک ذرا سے فکر اور توجہ سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ جس قدر بھی دکھ اور تکلیف انہیں اس خیال کے تصور سے ہو سکتا ہے اس کا اندازہ اور قیاس ہم نہیں کر سکتے ۔ ان کی تسکی اور تسکین کا موجب یہی آیت تھی کہ حضرت ابو بکڑ نے پڑھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے ایسے نازک وقت میں صحابہ کو سنبھالا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض نادان اپنی جلد بازی اور شتاب کاری کی وجہ سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آیت تو بے شک حضرت ابو بکڑ نے پڑھی لیکن حضرت عیسی علیہ السلام اس سے باہر رہ جاتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ایسے نادانوں کو میں کیا کہوں۔ وہ با وجود مولوی کہلانے کے ایسی بیہودہ باتیں پیش کر دیتے ہیں۔ وہ نہیں بتاتے کہ اس آیت میں وہ کون سا لفظ ہے جو حضرت عیسی کو الگ کرتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تو کوئی امر قابل بحث اس میں چھوڑا ہی نہیں۔ قد خلت کے معنے خود ہی کر دیے آفابن ماتَ أَوْ قُتِلَ ۔ اگر کوئی تیسری شق بھی اس کے سوا ہوتی تو کیوں نہ کہہ دیتا او رفع بجسده العنصري الى السماء کیا خدا تعالیٰ اس کو بھول گیا تھا جو یہ یاد دلاتے ہیں؟ نعوذ باللہ من ذالک اگر صرف یہی آیت ہوتی تب بھی کافی تھی مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو انہیں ایسی محبوب اور پیاری تھی کہ اب تک آپ کی وفات کا ذکر کر کے یہ لوگ بھی روتے ہیں۔ پھر صحابہ کے لئے تو اور بھی درد اور رقت اس وقت پیدا ہوگئی تھی ۔ میرے نزدیک مومن وہی ہوتا ہے جو آپ کی اتباع کرتا ہے اور وہی کسی مقام پر پہنچتا ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔ قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله یعنی کہہ دو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کو محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو تا کہ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنالے۔ اب محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کے فعل کے ساتھ خاص موانست ہو اور مرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ نے مرکر دکھا دیا۔ پھر کون ہے جو زندہ رہے ال عمران ۱۴۵ ۲ آل عمران: ۳۲