لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 261

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۱ لیکچر لدحسانه اور اس کی نسبت موت کا لفظ منہ سے نکالا اور تمہیں غضب آجاتا ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب تک زندہ رہتے تو ہر ج نہ تھا۔ اس لئے کہ آپ وہ عظیم الشان ہدایت لے کر آئے تھے جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی ۔ اور آپ نے وہ عملی حالتیں دکھائیں کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ان کا نمونہ اور نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔ میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی ضرورت دنیا اور مسلمانوں کو تھی اس قدر ضرورت مسیح کے وجود کی نہیں تھی ۔ پھر آپ کا وجود باجود وہ مبارک وجود ہے کہ جب آپ نے وفات پائی تو صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ دیوانے ہو گئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار میان سے نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مردہ کہے گا تو میں اُس کا سر جدا کردوں گا۔ اس جوش کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک خاص نور اور فراست عطا کی۔ انہوں نے سب کو اکٹھا کیا اور خطبہ پڑھا مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ لے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر جس قد ر رسول آئے وہ سب وفات پا چکے۔ اب آپ غور کریں اور سوچ کر بتائیں کہ حضرت ابو بکر صدیق نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ آیت کیوں پڑھی تھی ؟ اور اس سے آپ کا کیا مقصد اور منشاء تھا؟ اور پھر ایسی حالت میں کہ کل صحابہ موجود تھے۔ میں یقینا کہتا ہوں اور آپ انکار نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے صحابہ کے دل پر سخت صدمہ تھا اور اس کو بے وقت اور قبل از وقت سمجھتے تھے ۔ وہ پسند نہیں کر سکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنیں ایسی حالت اور صورت میں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا جلیل القدر صحابی اس جوش کی حالت میں ہو اُن کا غصہ فرو نہیں ہو سکتا ( تھا) بجز اس کے کہ یہ آیت ان کی تسلی کا موجب ہوتی ۔ اگر انہیں یہ معلوم ہوتا یا یہ یقین ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ تو زندہ ہی مرجاتے۔ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق تھے اور آپ کی حیات کے سوا کسی اور کی ال عمران: ۱۴۵