لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 259

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۹ لیکچر لدھیانہ جبکہ میں ابتدا سے بیان کرتا آیا ہوں کہ میں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ذرا ادھر اُدھر ہونا بے ایمانی سمجھتا ہوں۔ میرا عقیدہ یہی ہے کہ جو اس کو ذرا بھی چھوڑے گا وہ جہنمی ہے۔ پھر اس عقیدہ کو نہ صرف تقریروں میں بلکہ ساٹھ کے قریب اپنی تصنیفات میں بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور دن رات مجھے یہی فکر اور خیال رہتا ہے۔ پھر اگر یہ مخالف خدا سے ڈرتے تو کیا ان کا فرض نہ تھا جو مجھے سے پوچھتے کہ فلاں بات خارج از اسلام کی ہے اس کی کیا وجہ ہے یا اس کا تم کیا جواب دیتے ہو؟ مگر نہیں۔ اس کی ذرا بھی پروانہیں کی ۔ سنا اور کافر کہہ دیا۔ میں نہایت تعجب سے ان کی اس حرکت کو دیکھتا ہوں کیونکہ اول تو حیات وفات مسیح کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اسلام میں داخل ہونے کے لئے شرط ہو۔ یہاں بھی ہندو یا عیسائی مسلمان ہوتے ہیں مگر بتاؤ کہ کیا اُس سے یہ اقرار بھی لیتے ہو؟ بجز اس کے کہ امنت بالله وملائكته وكتبه ورسله والقدر خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت ۔ جبکہ یہ مسئلہ اسلام کی جزو نہیں پھر مجھ پر وفات مسیح کے اعلان سے اس قدر تشدد کیوں کیا گیا کہ یہ کافر ہیں دجال ہیں ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاوے۔ ان کے مال لوٹ لینے جائز ہیں اور ان کی عورتوں کو بغیر نکاح گھر میں رکھ لینا درست ہے۔ ان کو قتل کر دینا ثواب کا کام ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک تو وہ زمانہ تھا کہ یہی مولوی شور مچاتے تھے کہ اگر ۹۹ وجوہ کفر کے ہوں اور ایک وجہ اسلام کی ہو تب بھی کفر کا فتویٰ نہ دینا چاہیے اس کو مسلمان ہی کہو مگر اب کیا ہو گیا۔ کیا میں اس سے بھی گیا گزرا ہو گیا ؟ کیا میں اور میری جماعت اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسولہ نہیں پڑھتی ؟ کیا میں نمازیں نہیں پڑھتا یا میرے مرید نہیں پڑھتے ؟ کیا ہم رمضان کے روزے نہیں رکھتے ؟ اور کیا ہم ان تمام عقائد کے پابند نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی صورت میں تلقین کئے ہیں؟