لیکچر لدھیانہ — Page 260
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۰ لیکچرلدھیانہ میں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اور میری جماعت مسلمان ہے۔ اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر اُسی طرح ایمان لاتی ہے جس طرح پر ایک بچے مسلمان کو لانا چاہیے۔ میں ایک ذرہ بھی اسلام سے باہر قدم رکھنا ہلاکت کا موجب یقین کرتا ہوں اور میرا یہی مذہب ہے کہ جس قدر فیوض اور برکات کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے اور جس قدر تقرب الی اللہ پا سکتا ہے وہ صرف صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچی اطاعت اور کامل محبت سے پا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ آپ کے سوا اب کوئی راہ نیکی کی نہیں ۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ میں ہرگز یقین نہیں کرتا کہ مسیح علیہ السلام اسی جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر گئے ہوں۔ اور اب تک زندہ قائم ہوں۔ اس لئے کہ اس مسئلہ کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت تو ہین اور بے حرمتی ہوتی ہے۔ میں ایک لحظہ کے لئے اس ہجو کو گوارا نہیں کر سکتا ۔ سب کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۳ سال کی عمر میں وفات پائی اور مدینہ طیبہ میں آپ کا روضہ موجود ہے۔ ہر سال وہاں ہزاروں لاکھوں حاجی بھی جاتے ہیں۔ اب اگر مسیح علیہ السلام کی نسبت موت کا یقین کرنا یا موت کو ان کی طرف منسوب کرنا بے ادبی ہے تو پھر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ گستاخی اور بے ادبی کیوں یقین کر لی جاتی ہے؟ مگر تم بڑی خوشی سے کہہ دیتے ہو کہ آپ نے وفات پائی ۔ مولود خواں بڑی خوش الحانی سے واقعات وفات کو ذکر کرتے ہیں۔ اور کفار کے مقابلہ میں بھی تم بڑی کشادہ پیشانی سے تسلیم کر لیتے ہو کہ آپ نے وفات پائی ۔ پھر میں نہیں سمجھتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر کیا پھر پڑتا ہے کہ نیلی پیلی آنکھیں کر لیتے ہو؟ ہمیں بھی رنج نہ ہوتا کہ اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی وفات کا لفظ سن کر ایسے آنسو بہاتے مگر افسوس تو یہ ہے کہ خاتم النبیین اور سرور عالم کی نسبت تو تم بڑی خوشی سے موت تسلیم کر لو ۔ اور اُس شخص کی نسبت جو اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں بتا تا زندہ یقین کرتے ہو