لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 258

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۸ لیکچر لدحسانه خدا کی حجت غالب ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ میں اسی خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے اور با وجود اس شر اور طوفان کے جو مجھ پر اٹھا اور جس کی جڑ اور ابتدا اسی شہر سے اٹھی اور پھر دتی تک پہنچی مگر اس نے تمام طوفانوں اور ابتلاؤں میں مجھے صحیح سالم اور کامیاب نکالا۔ اور مجھے ایسی حالت میں اس شہر میں لایا کہ تین لاکھ سے زیادہ زن و مرد میرے مبایعین میں داخل ہیں اور کوئی مہینہ نہیں گزرتا جس میں دو ہزار چار ہزار اور بعض اوقات پانچ پانچ ہزار اس سلسلہ میں داخل نہ ہوتے ہوں۔ پھر اس خدا نے ایسے وقت میں میری دستگیری کی کہ جب قوم ہی دشمن ہو گئی جب کسی شخص کی دشمن اس کی قوم ہی ہو جاوے تو وہ بڑا بے کس اور بڑا بے دست و پا ہوتا ہے کیونکہ قوم ہی تو دست و پا اور جوارح ہوتی ہے۔ وہی اس کی مدد کرتی ہے۔ دوسرے لوگ تو دشمن ہوتے ہی ہیں کہ ہمارے مذہب پر حملہ کرتا ہے لیکن جب اپنی قوم بھی دشمن ہو تو پھر بچ جانا اور کامیاب ہو جانا معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک زبر دست نشان ہے۔ میں نہایت افسوس اور درد دل سے یہ بات کہتا ہوں کہ قوم نے میری مخالفت میں نہ صرف جلدی کی بلکہ بہت بے دردی بھی کی۔ صرف ایک مسئلہ وفات مسیح کا اختلاف تھا جس کو میں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ، صحابہ کے اجماع اور عقلی دلائل اور کتب سابقہ سے ثابت کرتا تھا اور کرتا ہوں ۔ اور حنفی مذہب کے موافق نص ، حدیث ، قیاس دلائل شرعیہ میرے ساتھ تھیں مگر ان لوگوں نے قبل اس کے کہ وہ پورے طور پر مجھ سے پوچھ لیتے اور میرے دلائل کو سن لیتے اس مسئلہ کی مخالفت میں یہاں تک غلو کیا کہ مجھے کافر ٹھہرایا گیا اور اس کے ساتھ اور بھی جو چاہا کہا اور میرے ذمہ لگایا۔ دیانت ، نکو کاری اور تقویٰ کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے مجھ سے پوچھ لیتے ۔ اگر میں قال اللہ اور قال الرسول سے تجاوز کرتا تو پھر بے شک انہیں اختیار اور حق تھا کہ وہ مجھے جو چاہتے کہتے دجال کذاب وغیرہ لیکن