لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 597

لیکچر لاہور — Page 182

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸۰ لیکچر لاہور ٹھٹھے کا نشانہ بنے رہے اور آخر مکہ سے بڑے ظلم اور تعدی سے نکالے گئے ۔ کس کو خبر تھی کہ آخر وہ کروڑہا انسانوں کا امام اور پیشوا بنایا جاوے گا۔ سو یہی سنت الہی ہے کہ خدا کے منتخب لوگ اول اول حقیر اور ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں کہ ابتدا میں خدا کے فرستادوں کی شناخت کر سکتے ہیں اور ضرور ہے کہ وہ جاہل لوگوں کے ہاتھوں سے دکھ اُٹھاویں اور طرح طرح کی باتیں اُن کے حق میں کہی جاویں اور ہنسی اور ٹھٹھا کیا جاوے اور گالیاں دی جاویں۔ جب تک کہ وہ وقت آوے کہ اُن کے قبول کرنے کے لئے خدا دلوں کو کھول دے۔ یہ تو میرا دعویٰ ہے کہ جو میں نے بیان کیا لیکن وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقعہ ہوگئی ہے اُس کو دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہوگئی ہیں اُن کو ظاہر کر دوں ۔ اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے۔ اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض مقال سے ان کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو آب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائگی پودا لگا دوں ۔ اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہوگا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہوگا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو خدا نے اپنے ہاتھ سے میری تربیت فرما کر اور مجھے اپنی وحی سے شرف بخش کر میرے دل کو یہ جوش بخشا ہے کہ میں اس قسم کی اصلاحوں کے لئے کھڑا ہو جاؤں اور دوسری طرف اس نے دل بھی تیار کر دیئے ہیں جو میری باتوں کے ماننے کے لئے مستعد ہوں