لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 597

لیکچر لاہور — Page 181

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۹ لیکچر لاہور اور دنیا میں شر اور خیر میں کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی ہوگی جیسے کہ اس دن ہوگی کیونکہ اُس (۳۳) دن شیطان کے مکائد اور شیطانی علوم انتہا تک پہنچ جائیں گے اور جن تمام طریقوں سے شیطان گمراہ کر سکتا ہے وہ تمام طریق اُس دن مہیا ہو جائیں گے ۔ تب سخت لڑائی کے بعد جو ایک روحانی لڑائی ہے خدا کے مسیح کو فتح ہوگی اور شیطانی قوتیں ہلاک ہو جائیں گی اور ایک مدت تک خدا کا جلال اور عظمت اور پاکیزگی اور توحید زمین پر پھیلتی جائے گی اور وہ مدت پورا ہزار برس ہے جو ساتواں دن کہلاتا ہے۔ بعد اس کے دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو وہ مسیح میں ہوں ۔ اگر کوئی چاہے تو قبول کرے۔ اس جگہ بعض فرقے جو شیطان کے وجود سے منکر ہیں وہ تعجب کریں گے کہ شیطان کیا چیز ہے۔ پس اُن کو یاد رہے کہ انسان کے دل کے ساتھ دو کششیں ہر وقت نوبت بہ نوبت لگی رہتی ہیں ۔ ایک کشش خیر کی اور ایک کشش شر کی ۔ پس جو خیر کی کشش ہے شریعت اسلام اُس کو فرشتہ کی طرف منسوب کرتی ہے ۔ اور جو شر کی کشش ہے اس کو شریعت اسلام شیطان کی طرف منسوب کرتی ہے اور مدعا صرف اس قدر ہے کہ انسانی سرشت میں دو کششیں موجود ہیں۔ کبھی انسان نیکی کی طرف جھکتا ہے اور کبھی بدی کی طرف ۔ میرے خیال میں ہے کہ اس جلسہ میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو میرے اس بیان کو کہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا سے شرف مکالمہ اور مخاطبہ رکھتا ہوں انکار کی نظر سے دیکھیں گے اور تحقیر کی بھری ہوئی نگاہ سے میری طرف نظر کریں گے لیکن میں انہیں معذور سمجھتا ہوں کیونکہ ابتدا سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ پہلے خدا کے ماموروں اور مرسلوں کو دل آزار باتیں سننی پڑتی ہیں ۔ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے ابتدائی زمانہ میں ۔ وہ نبی اور رسول اور صاحب کتاب اور صاحب شریعت جس کی اُمت کہلانے کا ہم سب کو فخر ہے اور جس کی شریعت پر سب شریعتوں کا خاتمہ ہے اس کی سوانح کی طرف نگاہ کرو کہ کس طرح تیرہ برس تک مکہ میں تنہائی اور غربت اور بیکسی کے عالم میں منکروں کے ہاتھ سے تکلیفیں اُٹھا ئیں اور کیونکر تحقیر اور جنسی اور