لیکچر لاہور — Page 183
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸۱ لیکچر لاہور میں دیکھتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے دنیا میں مامور کر کے بھیجا ہے اُسی وقت سے دنیا (۳۵) میں ایک انقلاب عظیم ہو رہا ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں جو لوگ حضرت عیسی کی خدائی کے دلدادہ تھے اب ان کے محقق خود بخود اس عقیدہ سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور وہ قوم جو باپ دادوں سے بتوں اور دیوتوں پر فریفتہ تھی بہتوں کو ان میں سے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ بہت کچھ چیز نہیں ہیں اور گو وہ لوگ ابھی روحانیت سے بے خبر ہیں اور صرف چند الفاظ کو رسمی طور پر لئے بیٹھے ہیں لیکن کچھ شک نہیں کہ ہزار ہا بیہودہ رسوم اور بدعات اور شرک کی رسیاں انہوں نے اپنے گلے پر سے اتار دی ہیں اور توحید کی ڈیوڑھی کے قریب کھڑے ہو گئے ہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ کچھ تھوڑے زمانہ کے بعد عنایت الہی اُن میں سے بہتوں کو اپنے ایک خاص ہاتھ سے دھکہ دے کر سچی اور کامل تو حید کے اس دار الامان میں داخل کر دے گی جس کے ساتھ کامل محبت اور کامل خوف اور کامل معرفت عطا کی جاتی ہے۔ یہ امید میری محض خیالی نہیں ہے بلکہ خدا کی پاک وحی سے یہ بشارت مجھے ملی ہے۔ اس ملک میں خدا کی حکمت نے یہ کام کیا ہے تا جلد تر متفرق قوموں کو ایک قوم بنا دے اور صلح اور آشتی کا دن لاوے۔ ہر ایک کو اس ہوا کی خوشبو آ رہی ہے کہ یہ تمام متفرق قو میں کسی دن ایک قوم بننے والی ہے۔ چنانچہ حضرات مسیحی یہ خیالات شائع کر رہے ہیں کہ عنقریب تمام دنیا کا یہی مذہب ہو جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کر کے مان لیں گے اور یہودی جو بنی اسرائیل کہلاتے ہیں ان کو بھی ان دنوں میں نیا جوش پیدا ہو گیا ہے۔ کہ ان کا ایک خاص مسیح جو ان کو تمام زمین کا وارث بنا دے گا انہی دنوں میں آنے والا ہے۔ ایسا ہی اسلام کی پیشگوئیاں بھی جو ایک مسیح کا وعدہ دیتی ہیں ان کے وعدہ کا دن بھی ہجرت کی چودھویں صدی تک ہی ختم ہوتا ہے ۔ اور عام مسلمانوں کا بھی خیال ہے کہ ایسا زمانہ قریب ہے کہ جب تمام زمین پر اسلام پھیل جائے گا اور (۳۶)