لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 597

لیکچر لاہور — Page 159

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵۷ لیکچر لاہور ممکن ہے کہ وہ تم سے بہتر ہوں۔ اور خدا کے نزدیک تو زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ نیکی اور پر ہیز گاری سے حصہ لیتا ہے۔ قوموں کا تفرقہ کچھ چیز نہیں ہے۔ اور تم بُرے ناموں سے جن سے لوگ چڑتے ہیں یا اپنی ہتک سمجھتے ہیں ان کو مت پکار و در نہ خدا کے نزدیک تمہارا نام بدکار ہوگا اور بتوں سے اور جھوٹ سے پر ہیز کرو کہ یہ دونوں نا پاک ہیں اور جب بات کرو تو حکمت اور معقولیت سے کرو اور لغو گوئی سے بچو اور چاہیے کہ تمہارے تمام اعضاء اور تمام قوتیں خدا کی تابع ہوں اور تم سب ایک ہو کر اُس کی اطاعت میں لگو ۔ اور پھر ایک مقام میں فرمایا الهنكُمُ التَّكَاثُرُ - حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ - كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ - ثُمَّ كَلَّا | سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ - كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِينِ - لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ - ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَ بِذِ عَنِ النَّعِيمِ ۔ اے وے لوگو جو خدا سے غافل ہو! دنیا طلبی نے تمہیں غافل کیا یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو اور غفلت سے باز نہیں آتے یہ تمہاری غلطی ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ اگر تمہیں یقینی علم حاصل ہو جائے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر کے اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہاری زندگی جہنمی ہے پھر اگر اس سے بڑھ کر تمہیں معرفت ہو جائے تو تم یقین کامل کی آنکھ سے دیکھ لو کہ تمہاری زندگی جہنمی ہے۔ پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ تم جہنم میں ڈالے جاؤ گے اور ہر یک عیاشی اور بے اعتدالی سے پوچھے جاؤ گے یعنی عذاب میں ماخوذ ہو کر حق الیقین تک پہنچ جاؤ گے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یقین تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ محض علم اور قیاس سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ کوئی دور سے دھواں دیکھے اور قیاس اور عقل کو دخل دے کر سمجھ لے کہ اس جگہ ضرور آگ ہوگی۔ اور پھر دوسری قسم یقین کی یہ ہے کہ اس آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ پھر تیسر کی قسم یقین کی یہ ہے کہ مثلاً اس آگ میں ہاتھ ڈال دے اور اس کی قوت احتراق سے مزہ چکھ لے۔ پس یہ تین قسمیں التكاثر : ۲ تا ۹