لیکچر لاہور — Page 160
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵۸ لیکھر لاہور ہوئیں۔ علم الیقین ۔ عین الیقین حق الیقین ۔ اس آیت میں خدا تعالی نے سمجھایا کہ تمام راحت انسان کی خدا تعالیٰ کے قرب اور محبت میں ہے اور جب اس سے علاقہ تو ڑ کر دنیا کی طرف جھکے تو یہ جہنمی زندگی ہے اور اس جہنمی زندگی پر آخر کار ہر ایک شخص اطلاع پالیتا ہے اور اگر چہ اس وقت اطلاع پاوے جب کہ یک دفعه مال و متاع اور دنیا کے تعلقات کو چھوڑ کر مرنے لگے ۔ اور پھر دوسری جگہ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّاتُنِ یعنی جو شخص خدا تعالی کے مقام اور عزت کا پاس کر کے اور اس بات سے ڈر کر کہ ایک دن خدا کے حضور میں پوچھا جائے گا گنہ کو چھوڑتا ہے اُس کو دو بہشت عطا ہوں گے (۱) اول اسی دنیا میں بہشتی زندگی اس کو عطا کی جاوے گی اور ایک پاک تبدیلی اس میں پیدا ہو جائے گی اور خدا اس کا متولی اور متکفل ہوگا ۔ دوسرے مرنے کے بعد جاودانی بہشت اس کو عطا کیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ وہ خدا سے ڈرا اور اس کو دنیا پر اور نفسانی جذبات پر مقدم کر لیا۔ پھر ایک اور جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكُفِرِينَ سَلْسِلَا وَاغْلُلًا وَسَعِيْرًا إِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَأْسِ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا | عَيْنا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ يُفجرُونَهَا تَفْجِيرًا وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زنجبيلًا عَيْنا فِيهَا تُسلى سلسبیلا کے یعنی ہم نے کافروں کے لئے جو ہماری محبت دل میں نہیں رکھتے اور دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ زنجیر اور طوق گردن اور دل کے جلنے کے سامان تیار کر رکھے ہیں اور دنیا کی محبت کی اُن کے پیروں میں زنجیریں ہیں اور گردنوں میں ترک خدا کا ایک طوق ہے جس سے سر اُٹھا کر اوپر کو نہیں دیکھ سکتے اور دنیا کی طرف جھکے جاتے ہیں اور دنیا کی خواہشوں کی ہر وقت ان کے دلوں میں ایک جلن ہے مگر وہ جو نیکو کار ہیں وہ اسی دنیا میں ایسا کافوری شربت پی رہے ہیں جس نے ان کے دلوں میں سے دنیا کی محبت ٹھنڈی کر دی ہے اور دنیا طلبی کی پیاس بجھا دی ہے۔ کا فوری شربت کا ایک چشمہ ہے جو ان کو عطا کیا جاتا ہے اور وہ اس چشمہ کو پھاڑ پھاڑ کر نہر کی صورت پر کر دیتے ہیں تا وہ نزدیک اور ڈور کے پیاسوں کو اس میں شریک کر دیں۔ الرّحمن: ۴۷ ۲ الدهر : ۵ تا ۷ ۳ الدهر ۱۹۱۸