کتاب البریہ — Page 47
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۷ سچا نہیں ہے مر محمد حسین بٹالوی نے مارے تعصب اور بخل کے اس مقدمہ کو چا قرار دیا اور اپنا نفسانی کینہ نکالنے کے لئے یہ ایک موقعہ سمجھا۔ اسی غرض سے وہ ایسے جھوٹے اور قابل شرم مقدمہ میں عیسائیوں کی مدد دینے کے لئے عدالت میں آیا۔ فلینک علی تقواه من كان با کیا۔ لیکن بالطبع اس جگہ ایک سوال ہوتا ہے کہ ایسے مولوی جو مدتوں تک تقومی اور کف کسان ۲۷ اور دیانت اور امانت کا لوگوں کو وعظ کرتے رہے کیونکر ان کو حق کے قبول کرنے کے لئے مدد نہ ملی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان اپنے نفس پر آپ ظلم کرتا ہے ۔ عادۃ اللہ یہ ہے کہ جب ایک فعل یا عمل انسان سے صادر ہوتا ہے تو جو کچھ اس میں اثر مخفی یا کوئی خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے خدا تعالی ضرور اس کو ظاہر کر دیتا ہے مثلاً جس وقت ہم کسی کوٹھڑی کے چاروں طرف سے دروازے بند کر دیں گے تو یہ ہمارا ایک فعل ہے جو ہم نے کیا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر اثر یہ مترتب ہوگا کہ ہماری کوٹھڑی میں اندھیرا ہو جائے گا اور اندھیرا کرنا خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ ایسا ہی جب ہم ایک وزن کافی تک زہر کھا لیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ ہمارا فعل ہوگا پھر بعد اس کے ہمیں ماردینا یہ خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ غرض ہمارے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔ سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ ہر ایک ہمارا نیک یا بد کام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ اور قرآن شریف میں جو خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ آیا ہے اس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنی ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور منہ پر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ ۔ یعنی جب کہ وہ حق سے پھر گئے تو خدا تعالیٰ نے البقرة : ٨ الصف : ٦