کتاب البریہ — Page xxxviii
آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔اگر کوئی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔‘‘ (دیکھو حاشیہ صفحہ ۲۲۵، ۲۲۶ جلد ھٰذا) آج تک کسی عالم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اور کوئی ایسی حدیث مرفوع متصل نہیں پیش کر سکا جس میں مسیح علیہ السلام کے بجسمہ العنصری آسمان پر جانے اور پھر آسمان سے نازل ہونے کا ذکر ہو۔البلاغ یا فریادِ دَرد ۱۸۹۷ء میں ایک عیسائی احمد شاہ نے ایک نہایت ہی گندی اور دلآزار کتاب ’’امہات المومنین‘‘ شائع کی۔اور اس کا ایک ہزار نسخہ بذریعہ ڈاک ہندوستان کے علماء اور معززین اسلام کو مفت بھیجا گیا تا ان میں سے کوئی اس کا جواب لکھے۔چونکہ اس کتاب میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کی ازواجِ مطہرات کی شان میں مؤلف نے سخت توہین آمیز کلمات استعمال کئے تھے اس لئے اس کتاب کی اشاعت سے مسلمانوں میں عیسائیوں کے خلاف سخت اشتعال پیدا ہوا۔اور مسلم انجمنوں نے اس کا جواب دینے کی بجائے گورنمنٹ کی خدمت میں میموریل پر میموریل بھیجنے شروع کر دیئے تاکہ اس کتاب کو ضبط کیا جائے اور اس کی اشاعت بند کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موقعہ پر یہ رسالہ لکھا جس میں مسلمانوں کے طریق کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مناسب یہی ہے کہ ان سب اعتراضات کا جو اس کتاب اور دیگر کتابوں میں پادریوں نے لکھے ہیں تسلّی بخش جواب دیا جائے کیونکہ جب ایک کتاب ملک میں شائع ہو کر اپنے بداثرات پڑھنے والوں کے قلوب میں داخل کر چکی ہے تو اب اس کی ضبطی سے کیا فائدہ؟ اب تو اس کا نہایت ہی نرمی اور تہذیب سے مدلّل اور مسکت جواب ہونا چاہئے۔اور آپ نے گورنمنٹ سے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ مناسب ہو گا اگر گورنمنٹ آئندہ کے لئے مذہبی مناظرات میں دلآزار اور ناپاک کلمات کے استعمال کو حکماً روک دے۔نیز آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ پادریوں کے اعتراضات کا جواب دینا بھی ہر ایک کا کام نہیں ہے۔بلکہ وہی شخص اس کام کو سر انجام دے سکتا ہے جس میں دس شرائط پائی جاتی ہوں۔(ملاحظہ ہو مفہوماً صفحہ ۳۷۰۔۳۷۵)