کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvii of 630

کتاب البریہ — Page xxxvii

23 گئی ہے اور اس میٹنگ کی صدارتی تقریر میں انہوں نے جماعت احمدیہ سے متعلق فرمایا:۔’’مجھ سے بار بار سوال کیا گیا ہے کہ احمدیت کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے میں اس سوال کا یہی جواب دیتا ہوں کہ اسلام میں روحانیت کی رُوح پھونکنا اور اسلام کو موجودہ زمانہ کی زندگی کے مطابق پیش کرنا ہے۔مَیں نے جب ۱۸۹۷ء میں بان ئ جماعت احمدیہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔لیکن آج دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔پچاس سال کے عرصہ میں یہ نہایت شاندار کامیابی ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ نسل کے نوجوان اس کی طرف زیادہ توجہ دیں گے۔اور آئندہ پچاس سال کے عرصہ میں جماعت کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز اردو بابت ماہ ستمبر ۱۹۳۹ء) کرنل ڈگلس کا ذکر ہماری جماعت میں قیامت تک باقی رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی منصف مزاجی اور بیدار مغزی اور حق پسندی کا ذکر کر کے فرماتے ہیں:۔’’جب تک دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی ویسی ویسی تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے اِسی کو چنا۔‘‘ (کشتئ نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ۵۶) کرنل ڈگلس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک عظیم الشان ریفارمر یعنی مصلح سمجھتے تھے۔بیس ۲۰ ہزار روپے کا انعام کتاب البریّہ میں آپؑ نے حضرات علماء کو مخاطب کر کے متحدیانہ طریق سے تحریر فرمایا:۔’’کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا۔اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ