کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 630

کتاب البریہ — Page 301

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۰۱ سے تعلق سے ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ که مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے ۔ لہذا وہ بری کئے جاتے ہیں ۔ لیکن ہم اس موقعہ پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور اس پر دستخط کر دیئے ہیں باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں۔ سیح موعود کے بارے میں حدیث ہے جس میں یہ بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (۲۶۲) اس کو عالم کشف میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اس میں اس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ گندم گوں تھا اور اس کے بال گھونگر والے نہیں تھے بلکہ صاف تھے۔ اور پھر اصل مسیح علیہ السلام جو اسرائیلی نبی تھا اس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ سرخ رنگ تھا جس کے گھونگر والے ہال تھے۔ اور صیح بخاری میں جابجا یہ التزام کیا گیا ہے کہ آنے والے مسیح موعود کے حلیہ میں گندم گوں اور سیدھے بال لکھدیا ہے اور حضرت عیسے کے حلیہ میں جابجا سرخ رنگ اور گھونگر والے بال لکھتا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کو ایک علیحدہ انسان قرار دیا ہے اور اس کی صفت میں امامکم منکم بیان فرمایا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو علیحدہ انسان قرار دیا ہے۔ اور بعض مناسبات کے لحاظ سے عیسی بن مریم کا نام دونوں پر اطلاق کر دیا ہے۔ اور ایک اور بات غور کرنے کے لائق ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بری کرنے کا جو ۲۳ اگست ۱۸۹۷ء کو مجسٹریٹ ضلع کی قلم سے نکلا اور یہ نوٹس جو بطور تبد ید لکھا گیا یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن سے ہماری جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ ان کو ایک مدت پہلے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ان دونوں باتوں کی خبر دی گئی تھی ۔ اب انہیں سوچنا چاہیے کہ کیونکر ہمارے خدا نے یہ دونوں غیب کی باتیں پیش از وقت اپنے بندہ پر ظاہر کر دیں۔ جن لوگوں نے یہ نشان بچشم خود دیکھ لیا چاہیے کہ وہ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کریں اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر پھر غفلت میں زندگی بسر نہ کریں ۔ منہ