کتاب البریہ — Page 302
له الله ٣٠٢ روحانی خزائن جلد ۱۳ جو اثر کہ اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر ہوگا اس کی ذمہ واری ان ہی پر ہوگی اور ہم انھیں متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کریں گے وہ قانون کے رو سے بیچ نہیں سکتے بلکہ اس کی زد کے اندر آ جاتے ہیں۔ دستخط ایم ڈیکس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور ۲۳ / اگست ۱۸۹۷ء یہ تمام مقدمہ جومعہ رائے حاکم لکھا گیا ہے اس میں غور کرنے سے ظاہر ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے جہاں مسیح موعود کا ذکر کیا ہے اس جگہ صرف اسی پر کفایت نہیں کی کہ اس کا حلیہ گندم گوں اور صاف بال لکھا ہے بلکہ اس کے ساتھ دجال کا بھی جا بجا ذکر کیا ہے مگر جہاں حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیلی کا ذکر کیا ہے وہاں دنبال کا ساتھ ذکر نہیں کیا ۔ پس اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں عیسی بن مریم دو تھے ایک وہ جو گندم گوں اور صاف بالوں والا ظاہر ہونے والا تھا جس کے ساتھ دجال ہے اور دوسرا وہ جو سرخ رنگ اور گھونگریالے بالوں والا ہے اور بنی اسرائیلی ہے جس کے ساتھ وقبال نہیں اور یہ بات بھی یادر رکھنے کے لائق ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام شامی تھے اور شامیوں کو آدم یعنی گندم گوں ہر گز نہیں کہا جاتا مگر ہندیوں کو آدم یعنی گندم گوں کہا جاتا ہے ۔ اس دلیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گندم گوں مسیح موعود جو آنے والا بیان کیا گیا ہے وہ ہرگز شامی نہیں ہے بلکہ ہندی ہے ۔ اس جگہ یا در ہے کہ نصاریٰ کی تواریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی گندم گوں نہیں تھے بلکہ عام شامیوں کی طرح سرخ رنگ تھے ۔ مگر آنے والے مسیح موعود کا حلیہ ہرگز شامیوں کا حلیہ نہیں ہے جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ اور منجملہ ان دلائل کے جو نصوص حدیثیہ سے صحت وصدق دعوئی اس راقم پر قائم ہوئے ہیں وہ حدیث بھی ہے جو مجد دوں کے ظہور کے بارے میں ابوداؤ داور مستدرک میں موجود ہے یعنی یہ کہ اس امت کے لئے ہر ایک صدی کے سر پر مجد د پیدا ہوگا اور ان کی ضرورتوں