کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 630

کتاب البریہ — Page 300

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۰۰ كتاب البرية مگر میعاد متعینہ گذر چکی ہے اور اب پیشگوئی غیر متعلق ہے۔ ایک اور پیشگوئی میں جس کی میعاد ستمبر ۱۸۹۷ء میں منقضی ہوگی غلام احمد (موٹے حروف میں ) ڈاکٹر کلارک یا دیگر کسی پادری کو مباہلہ کے لئے طلب کرتے ہیں۔ وہ اپنے دل سے امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک منتخب ہوں اور وہ اسے ذلیل سابز دل آدمی کہتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر کلارک شیطانی تدابیر کو اختیار کر کے بیچنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ خود اپنے طور سے جھوٹ کی بیخ کنی کر دیگا۔ ڈاکٹر کلارک کہتا ہے کہ جھوٹ سے اس کی ہی ذات کی طرف اشارہ ہے اور یہاں جو جھوٹ کا لفظ ہے وہ اس جھوٹ سے ملتا ہے جو ۱۸۹۳ء کی پیشگوئی میں درج ہے۔ مگر مرزا صاحب اس انتہام سے انکار کرتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئیاں ڈیلفک الباموں کی طرح دو پہلو رکھتی ہیں اور اسی میں فائدہ ہے کہ وہ ایسی ہوں۔ مرزا صاحب کچھ مطلب بیان کرتے ہیں اور ڈاکٹر کلارک کچھ۔ اور اس صورت میں اس ۲۲ امر کا ثابت کرنا ناممکن ہے کہ ڈاکٹر کلارک کے معنے ٹھیک ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر کلارک کی موت کی نسبت بھی کوئی پیشگوئی نہیں کی اور جس قدر مطبوعہ شہادت پیش کی گئی ہے ہم منجملہ اس کے کسی میں بھی کوئی صاف اور صریح امر نہیں پاتے جس سے مرزا صاحب کے بیان کی تردید ہوتی ہو۔ غلام احمد نے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے کہ ان کو ان حملات کا کچھ بھی علم نہیں ہے جو ہتھم کی جان پر کئے گئے۔ مگر کہا کہ لیکھرام کی نسبت اس کو علم تھا کہ وہ مر جائے گا اور نیز اس نے دن اور گھنٹہ کی پیش از وقت اطلاع دے دی تھی ۔ جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ بقیه حاشیه ظاہر ہو ۔ اوّل یہ کہ نصوص صریحہ اس کی صحت پر گواہی دیں یعنی وہ دعوی کتاب اللہ کے مخالف نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ عقلی دلائل اس کے مؤید اور مصدق ہوں ۔ تیسرے یہ کہ آسمانی نشان اس مدعی کی تصدیق کریں ۔ سو ان تینوں وجوہ استدلال کے رو سے میرا دعوی ثابت ہے ۔ نصوص حدیثیہ جو طالب حق کو بصیرت کامل تک پہنچاتی ہیں اور میرے دعوے کی نسبت اطمینان کامل بخشتی ہیں ان میں سے مسیح موعود اور مسیح بنی اسرائیلی کا اختلاف حلیہ ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری کے صفحہ ۴۸۵ و ۱۰۵۵٫۸۷۶ وغیرہ میں جو