کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 630

کتاب البریہ — Page 272

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۷۲ ۲۳۷) ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس بہادر کی درخواست اور اُس کی اپنی درخواست پر رکھا تھا۔ ہم نے مسٹر گرے اور اُس کے اُن کے پاس جانے کی نسبت بعد میں سُنا ۔ ( بسوال وکیل ملزم ) ہم ڈاکٹر مشنری ہیں۔ ہم نے اپنے وکیل کا سفر خرچہ اور محنتانہ نہیں دیا۔ ہم کو یاد نہیں ہے کہ آیا ہم نے رام بھیج دت کو وکیل مقرر کیا یا وہ از خود آیا۔ ہم لوگ ایک شخص جو سب کا دشمن ہے کے بارے میں مل کر کارروائی کرتے ہیں۔ (بسوال عدالت ) عبد الرحیم ۳۲ سال ملازمت مشن میں رہا۔ جب لڑکا آیا ۔ عبد الرحیم ایک بڑی خوف زدہ حالت میں تھا اور اقبال کیا کہ وہ اُس کو مار ڈالنے آیا ہے۔ لڑکے کی روانگی کے دن ہم عبد الرحیم کو اُس کے ظاہر ارادوں کے بارے میں ناراض ہوئے۔ ہم کو سوجھ گئی تھی کہ اشارہ نادرست نہیں تھا۔ اور لڑکے کے چہرے پر ظاہرا ۲۳۷ ایک رنگ آتا تھا اور دوسرا جاتا تھا 97-8-2 کوئی سوال نہیں ہوا۔ دستخط حاکم نقل بیان مسٹر لیمار چنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور بعد الت فوجداری اجلاسی مسٹرایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور (هر عدالت سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۰۷ اضابطہ فوجداری دستخط حاکم ۲۰ راگست ۹۷ بیان مسٹر لیمار چنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس با قرار صالح ۔ ۱۳ تاریخ کو صاحب مجسٹریٹ ضلع نے ہم سے فرمایا تھا کہ عبدالحمید کے بیان سے پوری تسلی ان کی نہیں خدا کی طرف بھی محض ان کی روح ہی گئی تھی اور اس کے ساتھ وہ جسم نہیں تھا جو نعوذ باللہ لعنتی صلیب سے ناپاک ہو چکا تھا۔ کیونکہ جس حالت میں لعنت کے دنوں میں جسم تین دن تک قبر میں رہا اور جہنم میں لعنت کا نتیجہ بھگتنے کے لئے محض روح گئی تو پھر خدا جو بموجب قول ان کے روح ہے کیونکر اس کی طرف جسم اٹھایا گیا ۔ حالانکہ جسم کا جہنم میں جانا ضروری تھا کیونکہ گواهنت یسوع کے دل پر پڑی مگر جسم بھی دل کے ساتھ شریک تھا بالخصوص اس وجہ سے کہ عیسائیوں کا جہنم محض ایک جسمانی آتش خانہ ہے کوئی روحانی عذاب اس میں نہیں ۔ غرض