کتاب البریہ — Page 271
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۷۱ الٹا دینا۔ میں یہ بات سچ اور ایمان سے کہتا ہوں کہ وکیل رام بھیج نے مجھے کو حسب مذکورہ بالا کہا (۲۳۶) تھا۔ میرے ساتھ ایک سپاہی آریہ قادیاں گیا تھا۔ آریوں کے ہاں ٹھہرا تھا اور آریوں نے گواہ بنا دئیے تھے۔ نہال چند مدرس عیسائی ہے۔ عبدالحمید بقلم خود سُنایا گیا درست ہے تسلیم کیا گیا دستخط حاکم نقل تر جمہ بیان ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور دستخط حاکم سر کار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۰۷ ا ضابطہ فوجداری ترجمہ بیان ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب با قرار صالح ۲۰ را گست ۱۸۹۷ء ہم کو عبدالحمید کے اس دوسرے بیان کی نسبت کچھ معلوم نہیں ہے۔ عبدالرحیم ۳ بجے اور چھ بجے کے درمیان بیاس جا کر امرتسر واپس آسکتا تھا۔ جب ہم سب بیاس گئے تو کسی شخص کو عبد الحمید کے ساتھ علیحدہ بات کرنے کا موقعہ نہیں تھا۔ عبدالحمید کے اقبال کے وقت عبدالرحیم ذرا فاصلے پر موجود تھا اور کان میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اُس نے ہمارے پاس اقبال کیا۔ عبدالرحیم اقبال کرنے کے وقت نہیں بولا ۔ اقبال میں لفظ نقصان اول عبد الحمید نے لکھا تھا اور پھر لفظ مارڈالنا اُس نے از خود لکھا تھا۔ ہم نے لڑکے کو مسٹر اہل ساپ صاحب جب لعنت کے دن ختم ہو چکے تو وہ اسی جسم کے ساتھ جو مفتی صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور بذریعہ (۲۳۶) سزا جہنم صاف نہیں کیا گیا تھا خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ۔ سو عیسائی لوگ اس بات کو خود مانتے ہیں کہ لعنت کے دنوں نے تقاضا کیا کہ تا حضرت یسوع کی روح جہنم میں جائے اور پھر جو لعنت سے پاک ہونے کے دن تھے ان دنوں نے تقاضا کیا کہ تا ان کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی جائے۔ اب چونکہ وہ لعنت کے دنوں کی نسبت اقرار کر چکے ہیں کہ یسوع کی محض روح ہی جہنم میں گئی تھی اس لئے انھیں اس دوسرے پہلو میں بھی یہی اقرار کرنا پڑے گا کہ