کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 630

کتاب البریہ — Page xxii

08 حکیم نور الدین صاحب رضی اﷲ عنہ کو اُس کی آوارگی اور بدچلنی اور اُس کی ناشائستہ حرکات سے اطلاع دے دی تھی اور بوجہ نکمّا پن کے اُسے بحکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے نکال دیا گیا تھا وہ ۶؍ جولائی ۱۸۹۷ء کو امرتسر پہنچ گیا۔پہلے وہ پادری نور دین سے ملا جس نے اُسے چٹھی دے کر امریکن مشن کے ایک پادری ایچ۔جی گرے کے پاس بھیج دیا۔مؤخر الذکر نے اُسے نکمّا اور غیر متلاشئ حق پا کر بمشورہ پادری نور دین پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے پاس بھیج دیا۔ڈاکٹر کلارک اور اُس کے زیر اثر پادریوں نے یہ دیکھ کر کہ وہ قادیان سے آیا ہے بکمال ہشیاری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ایک نہایت خوفناک منصوبہ تیار کیا۔پادریوں نے اُسے کس طرح بہکایا اور اُسے ڈرایا اور اُس سے یہ تحریری جھوٹا بیان لیا کہ وہ مرزا صاحب کی طرف سے ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے آیا ہے۔اس کے لئے دیکھئے صفحہ ۲۵۹،۲۶۰ جلد ھٰذا۔پادری وارث دین، پادری عبدالرحیم اور بھگت پریم داس وغیرہ پادریوں کی سازش سے یہ خوفناک منصوبہ تیار ہوا اور یکم اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو ڈاکٹر کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ایک درخواست اسی مضمون کی اے۔ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی خدمت میں پیش کی اور عبدالحمید کا تحریری بیان بھی پیش کردیا۔عبدالحمید اور ڈاکٹر کلارک کے بیانوں پر مسٹر اے۔ای مارٹینوڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر نے زیر دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیا اور لکھا کہ ’’زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری آپ سے حفظِ امن کے لئے ایک سال کے واسطے بیس ہزار کا مچلکہ اور بیس ہزار روپے کی دو الگ الگ ضمانتیں کیوں نہ لی جائیں۔(۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۱۶۵۔ملخصاً) لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تائید میں یہ غیبی فعل ظاہر ہوا کہ یہ جاری شدہ وارنٹ سات اگست تک گورداسپور نہ پہنچ سکا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ کہاں چلا گیا۔اِسی اثنا میں مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ غیر ضلع کے ملزم پر وارنٹ جاری کرنے کے قانوناً مجاز نہیں تو انہوں نے مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کو بذریعہ تار وارنٹ روکنے کے لئے حکم بھیجا۔اور وہ وارنٹ نہ ملنے کی وجہ سے حیران ہوئے۔اور جب مِسل منتقل ہو کر گورداسپور آئی تو صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے باوجود ڈاکٹر کلارک اور اُس کے وکیل کے سخت اصرار کے بجائے’’ وارنٹ جاری کرنے کے سمن جاری کر دیا اور دس۱۰ اگست کو بمقام بٹالہ اصالتاً یا بذریعہ مختار حاضر ہونے کا حکم دیا۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۱۶۸۔ملخصاً) اِس مقدمہ کو کامیاب بنانے کے لئے آریوں نے بھی عیسائیوں کی پوری پوری مدد کی تا لیکھرام کے