کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 630

کتاب البریہ — Page xxiii

09 قتل کا بدلہ لیں۔چنانچہ پنڈت رام بھجدت آریہ وکیل بغیر فیس لئے مقدمہ کی پیروی کرتا رہا۔اور ڈاکٹر کلارک نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ ہم لوگ ایک شخص کے بارے میں جو سب کا دشمن ہے مل کر کارروائی کرتے ہیں۔(۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۷۲) اور مسلمانوں میں سے مولوی محمد حسین بٹالوی نے عیسائیوں کی تائید میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف شہادت دی اور سخت ذلّت اٹھائی۔تفصیل کے لئے دیکھیں صفحہ ۳۳تا ۳۷ جلد ھٰذا۔صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کیپٹن ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس نے ۱۰؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو تحقیقات شروع کی جو ۱۳؍ اگست تک جاری رہی۔عبدالحمید اس وقت تک بالکل عیسائیوں کی نگرانی میں رہا۔اُس کی شہادت نے عموماً ڈاکٹر کلارک کے بیان کی تائید کی لیکن اس کے بیان پر بعض وجوہ کی بنا پر جن کا ذکر صفحہ ۲۹۰ پر موجود ہے۔کیپٹن ڈگلس نے مسٹر لیمارچنڈ ڈی۔ایس۔پی سے کہا کہ وہ اِس کو اپنی ذمہ داری میں لے کر آزادانہ طور سے اس سے پوچھیں۔چنانچہ ۱۴؍ اگست کو ڈی۔ایس۔پی نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ اور انسپکٹر جلال الدین صاحب کے جو احمدی نہیں تھے سپرد کیا اور مؤخر الذکر نے کچھ دیر کے بعد ڈی۔ایس۔پی کو اطلاع دی کہ وہ لڑکا اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے اور مقدمہ کی بابت کچھ اصلیت ظاہر نہیں کرتا۔اگر فرصت نہیں ہے تو عبدالحمید کو واپس انارکلی بھیج دیا جاوے۔تب لیمار چنڈ نے کہا کہ اس کو میرے روبرو حاضر کرو۔جب وہ آیا تو اُس نے پہلی کہانی بیان کی۔جو پہلے مرزا صاحب کے اس کو امرتسر برائے قتل ڈاکٹر کلارک بھیجنے کی نسبت بیان کی تھی۔لیمارچنڈ اپنے بیان میں کہتے ہیں:۔’’ہم نے دو صفحے لکھے اور اُس کوکہا کہ ہم اصلیت صرف دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ناحق وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔اِس بات کے کہنے پر عبدالحمید ہمارے پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا۔بڑا پشیمان معلوم ہوتا تھا اور کہا کہ میں اب سچ سچ بیان کرتا ہوں جو اصل واقعہ ہے اور تب اُس نے وہ بیان ہمارے روبروئے کہا جو ہم نے حرف بحرف اس کی زبان سے لکھا اور عدالت میں پیش ہے۔دیکھئے۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۷۳،۲۷۴۔نیز ۲۹۰،۲۹۱۔عبدالحمید نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا :۔’’ پہلا بیان مارے خوف اور ترغیب کے لکھایا تھا۔‘‘۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۲۶۵