کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxi of 630

کتاب البریہ — Page xxi

07 اور مجسم کیا گیا اس کو توڑ ڈالے گا اور اس کو مردہ کر کے پھینک دے گا اور اس کی لاش لوگوں کو دکھا دے گا اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں میں سے ننگا کر کے دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اور فتح کے دلائل بیّنہ ظاہر کریں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد۹ صفحہ ۲،۳) اِس حصۂ وحی کے متعلق ہم نے لکھا تھا کہ یہ حصہ عجیب انداز اور ایمان افروز رنگ میں پورا ہوا اُس کی تفصیل ہم رُوحانی خزائن جلد ۱۳ میں بیان کریں گے انشاء اﷲ تعالیٰ۔سو اب ہم حسب وعدہ اس کی تفصیل لکھتے ہیں۔عیسائیوں کو شکست فاش وہ جنگ مقدس جو مئی ۱۸۹۳ ؁ء میں بصورت مباحثہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نمائندہ مسلمانان اور ڈپٹی پادری عبداﷲ آتھم نمائندہ عیسائیان کے مابین ہوئی تھی۔اس میں عیسائی گروہ کو جو شکست ہوئی وہ عبداﷲ آتھم کے ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ ؁ء کو مر جانے سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گئی تھی اور اب کسی منصف مزاج کے لئے اسلام کی فتح اور عیسائیت کی شکست میں شک کی گنجائش نہ رہی تھی اور نہ ہی پادریوں کے پاس اپنی شکست چھپانے کے لئے کوئی عذر باقی رہا تھا۔مگر یہ دجّالی گروہ اپنی ندامت اور خفّت کو مٹانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف منصوبے سوچ رہا تھا اور گورنمنٹ کے پاس خفیہ طور پر آپ کے خلاف شکایات پہنچا رہا تھا۔انہی حالات میں پنڈت لیکھرام ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ ؁ء کو آپ کی پیشگوئی کے مطابق قتل ہو گیا جس پر آریہ سماج نے آپؑ کے خلاف تحریر و تقریر کے ذریعہ ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا۔اور پنڈت لیکھرام کے قتل کو آپؑ کی سازش اور منصوبہ قرار دے کر گورنمنٹ کو آپ کے خلاف اُکسانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔ابھی لیکھرام کے قتل کا فتنہ فرو نہ ہوا تھا کہ ایک نوجوان عبدالحمید جہلمی جو سلطان محمود ایک غیر احمدی مولوی کا بیٹا اور حضرت مولوی بُرہان الدین صاحبؓ احمدی جہلمی کا بھتیجا تھا آوارہ مزاج اور بقول پادری ایچ۔جی گرے نکمّا اور مفتری تھا۔اور اپنی گذران کے لئے سرگردان پھرتا تھا اور قادیان میں بھی چند دن رہ چکا تھا اور حضرت مولوی بُرہان الدین صاحبؓ نے جو ایک مخلص احمدی تھے حضر ت مولوی