کتاب البریہ — Page 158
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۸ راضی ہو گیا کہ میں ایسا ہی کروں گا جیسے اُس نے کہا تھا ۔ میں نے یہ امر اس لئے کیا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور ڈاکٹر کلارک عیسائی تھے ۔ میرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ مسلمان کو عیسائی کا قتل کرنا جائز ہے ۔ اس ارادہ کے ساتھ پھر امرتسر گیا ۔ میں نے ڈاکٹر کلارک کے پاس جا کر کہا کہ میں پہلے ہندو تھا پھر مسلمان ہوا اور اب عیسائی ہونا چاہتا ہوں ۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ میں مرزا صاحب کی طرف سے آیا ہوں ۔ مجھے ڈاکٹر کلارک نے ہسپتال میں بھیج دیا۔ لوگوں کی اصلاح کے لئے مسیح موعود کے نام پر مجھے بھیجا ہے اور مجھے آسمانی نشان دیئے ہیں ۔ اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس کتاب میں بھی کچھ اپنی سوانح لکھ دوں ۔ شاید کوئی طالب حق ان میں غور کر کے کچھ فائدہ اٹھائے۔ اور اتفاق حسنہ سے ان دنوں میں ایک صاحب حاجی محمد اسماعیل خاں نام رئیس د تاولی نے مجھ سے بذریعہ خط درخواست کی کہ تا میں ان کی ایک نو تالیف کتاب میں درج ہونے کے لئے مختصر طور پر اپنی سوانح لکھ دوں۔ اور اس میں اپنا دعوئی اور دلائل بھی بیان کروں ۔ سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ وہ خط اس جگہ بھی فائد ہ عام کے لئے ذیل میں درج کر دوں ۔ سو وہ معہ تمہیدی عبارت کے یہ ہے:۔ ہمارے مختصر سوانح اور مقاصد مجھے اس وقت ایک خط معہ ایک چھپی ہوئی درخواست کے حاجی محمد اسماعیل خاں صاحب رئیس د تاولی کی طرف سے ملا۔ جس میں انہوں نے ظاہر کیا ہے کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھنا چاہتے ہیں جس میں ہندوستان اور پنجاب کے ہر ایک قسم کے مشہور آدمیوں کا تذکرہ ہو ۔ اسی بنا پر انہوں نے مجھ سے بھی میرے سوانح طلب کئے ہیں اور میں نے بھی مناسب سمجھا کہ فائدہ عام کے لئے ان کی اس درخواست کے مطابق کچھ لکھوں اور ان کی کتاب میں شائع ہونے کے لئے کچھ حالات اپنے خاندان کے متعلق اور کچھ اپنی