کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 630

کتاب البریہ — Page 159

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۹ جہاں عیسائی رہتے اور تعلیم پاتے ہیں۔ میں امرتسر میں چار پانچ دن رہا۔ اور پھر ڈاکٹر کلارک نے مجھے ایک اور ہسپتال میں بھیج دیا جو بیاس میں ہے ۔ مجھے کل ڈاکٹر کلارک نے پوچھا کہ میں امرتسر کیوں آیا تھا۔ اور پھر میں نے اصل حقیقت کہہ دی ۔ اور کہہ دیا کہ مجھے میرزا صاحب نے ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا۔ اور میں نے اب اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور میں اس کے لئے پچھتاتا ہوں اور تو بہ کرتا ہوں ۔ میں نے یہ بیان اپنی ہی مرضی اور آزادی سے لکھایا ہے۔ میں دو تین مہینے تک قادیان میں مرزا صاحب کا مرید رہا ہوں ۔ پیش از میں کہ اس نے امرتسر جانے کے لئے کہا ۔ قادیان جانے سے پہلے میں گجرات میں رہا ہوں۔ جہاں مجھے ایک پادری تعلیم دیتا تھا وہ مجھے راولپنڈی بھیجنا چاہتا تھا۔ مگر مسلمانوں نے مجھ پر قبضہ پا کر مرزا صاحب کے پاس بھیج دیا۔ میرا باپ زمیندار اور مولوی تھا۔ وہ میرزا صاحب کا مرید نہیں تھا۔ اس کے مرنے پر میرے چچا برہان الدین نے میری پرورش کی۔ وہ جہلم میں رہتا تھا اور میرزا صاحب ذاتی سرگذشت اور کسی قدر اپنے دعوی مسیحیت اور دلائل دھومی کی نسبت تحریر کروں لیکن (۱۳۱) جس اختصار کی پابندی سے انہوں نے اس کام کا ارادہ فرمایا ہے وہ اس مقصد کی تکمیل کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس لئے میں بقدر کفایت کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس مضمون کو لکھنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ خانصاحب موصوف میری چند روزہ محنت اور تکلیف کشی کا لحاظ فرما کر بنظر قدرشناسی اس کے تمام و کمال درج کرنے سے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جب تک کسی شخص کے سوانح کا پورا نقشہ کھینچ کر نہ د کھلایا جائے تب تک چند سطر میں جو اجمالی طور پر ہوں کچھ بھی فائدہ پبلک کو نہیں پہنچا سکتیں اور ان کے لکھنے سے کوئی نتیجہ معتد بہ پیدا نہیں ہوتا ۔ سوانح نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اس زمانہ کے لوگ یا آنے والی نسلیں ان لوگوں کے