کتاب البریہ — Page xx
06 کیا ہے جو انہوں نے اپنی تالیفات میں سید الکائنات حضرت خاتم النّبیّین سیدنا محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں استعمال کئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ اِن پادریوں کی بدزبانی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اِن سے سیکھ کر آریوں نے بھی بد زبانی کا طریق اختیار کیا ہے۔اور وہ ہماری تحریر کو خواہ وہ کیسی ہی نرم کیوں نہ ہو سختی پر حمل کر کے بطور شکایت حکام تک پہنچاتے ہیں حالانکہ ہزار ہا درجہ بڑھ کر اِن کی طرف سے سختی ہوتی ہے۔پھر آپؑ نے اِس کتاب میں اپنے خاندانی اور ذاتی سوانح بیان کرنے کے علاوہ مختلف مذاہب میں مصالحانہ فضا پیدا کرنے کے لئے گورنمنٹ کی خدمت میں چند تجاویز لکھی ہیں جو اس جلد کے صفحہ ۳۴۶ پر درج ہیں۔ایک عظیم الشان نشان گیار۱۱ھویں جلد کے پیش لفظ میں ہم اُن الہامات کا ذکر کر چکے ہیں جن میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آتھم سے متعلق یہ اطلاع دی تھی کہ اُس نے پیشگوئی کی شرط ’’بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے‘‘ سے فائدہ اٹھایا ہے۔اِسی لئے وہ مکمل ہاویہ یعنی موت سے بچ گیا۔اور پھر اخفائے حق کی پاداش میں بہت جلد پکڑا گیا اور ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور مر گیا۔اور اس طرح آتھم کے رجوع الی الحق اور مطابق سُنّت اﷲ کامل عذاب کے التواء سے متعلق اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو اطلاع بذریعہ وحی دی تھی اُس کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہو گئی اور اُس وحی الٰہی کا یہ حصّہ ’’وبعزّتی وجلالی انک انت الاعلٰی و نمزّق الاعداء کلّ ممزّق و مکر اولٰئک ھو یبور۔انا نکشف السرّ عن ساقہ یومئذ یفرح المؤمنون۔‘‘ جس کا ترجمہ یہ ہے :۔’’مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے (یہ اس عاجز کو خطاب ہے) اور پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے یعنی ان کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتح یاب ہو نہ دشمن اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کردے یعنی جو مکر بنایا گیا