خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۵۱ خطبه الهاميه النور - و الـمـجـدد المأمور - والعبد المنصور آں نورم و مجدد هستم که با مرالہی آمده و بنده مدد یافته هستم وہ نور ہوں اور وہ مجدد ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یا فتہ ہوں والمهدى المعهود والمسيح الموعود - وانى و آن مهدی هستم که آمدن او معبود بود و آن مسیح هستم که وعده آمدن او شده بود و من اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا اور میں اپنے رب نزلت بمنزلةٍ من ربّى لا يعلمها احد من الناس از پروردگار خود باگ منزلت نزول می دارم که هیچ کس از آدمیان آنرا نمی شناسد سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا وان سرى اخفى وانتى من اكثر اهل الله و دورتر از اکثر مردان خداست قطع نظر از مینکه آن راز و را ز من پوشیده اور میرا بھید اکثر اہل اللہ سے پوشیدہ اور دور تر ہے قطع نظر اس سے کہ فضلا عن عامة الأناس - وان مـقـامـي ابـعـد حاشیه از مردم عامه پوشیده باشد و به تحقیق مقام من از دستہائے عام لوگوں کو اس سے کچھ اطلاع ہو سکے اور میرا مقام غوطہ لگانے والوں کے ایسا ہی ہوگا کیونکہ مسیح موعود کا آسمان سے نازل ہونا اسی رمز سے قرار دیا گیا ہے کہ اس کا ہاتھ زمینی اسباب کو نہیں چھوٹے گا۔ اور وہ محض آسمان کے پانی سے اسلام کے باغ کی آبپاشی کرے گا۔ کیونکہ اب خدا تعالیٰ اس معجزہ کو دکھلانا چاہتا ہے کہ اسلام اپنے شائع ہونے میں تلوار اور انسانی اسباب کا محتاج نہیں ۔ پس جو شخص با وجود اس صریح ممانعت اور موجودگی حديث يضع الحرب کے پھر تلوار اٹھاتا ہے اور غازی بننا چاہتا ہے گویا وہ ارادہ کرتا ہے کہ اس معجزو کو مشتبہ کر دے جس کا ظاہر کرنا خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے یعنی بغیر انسانی اسباب کے اسلام کو زمین پر غالب اور محبوب الخلائق بنادینا۔ منہ (1)