خطبة اِلہامِیّة — Page 50
روحانی خزائن جلد ۱۶ خطبه الهاميه وكثرت الذنوب - واشتدت الكروب - فعند وگنه با بسیار شدند اور گناہ بہت ہو گئے و بے قراری ہا سخت شدند پس اور بے قراریاں بڑھ گئیں پس اس (۱۸) هذه الليلة اليلاء - وظلمات الهوجاء بر وقت این شب تاریک اندھیری رات کے وقت و تاریکی بائے باد تند اور تاریکی اور تند ہوا کی تاریکی کے وقت ۱۸ اقتضى رحم الله نور السماء - فانا ذالك بخواست رحمت الہی نور آسمان را خدا کے رحم نے تقاضا کیا کہ آسمان سے نور نازل ہو پس من سو میں یہ جو حد بیثوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود نازل ہوگا یہ نزول کا لفظ اس اشارہ کیلئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ زمانہ ایسا ہوگا کہ تمام زمین پر تاریکی چھا جا ئیگی اور دیانت اور امانت اور راستی زمین پر سے اٹھ جائے گی ۔ اور زمین ظلم اور جور سے بھر جائیگی ۔ تب خدا آسمان سے ایک نور نازل کرے گا اور اس سے زمین کو دوبارہ روشن کر دے گا۔ وہ اوپر سے آئے گا کیونکہ نور ہمیشہ اوپر کی طرف سے آتا ہے اور مسیح موعود کا وقت ایسا وقت بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت اشاعت اسلام کے تمام اسباب معطل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کے دونوں ہاتھ درماندہ ہو جائیں گے کیونکہ خدا کی غیرت اس بات کو چاہے گی کہ اس اعتراض کو اٹھا دے اور دفع اور دور کرے جو کہا گیا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلایا گیا پس مسیح موعود کے وقت کے لئے یہ حکم ہے کہ تلواروں کو نیام میں کریں اور مذہب کے لئے کوئی شخص تلوار نہ اٹھائے اور اگر اٹھائے گا تو کافروں سے سخت شکست اٹھائے گا اور ذلیل ہوگا ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کی جماعت جن کو انہوں نے مصر سے نکالا تھا ایسی لڑائیوں میں ہمیشہ مغلوب ہوتی رہی جن لڑائیوں کے لئے موسیٰ کے منشاء کے برخلاف انہوں نے پیش قدمی کی ۔ سواب بھی