خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 46

۱۵ روحانی خزائن جلد ۱۶ ۴۶ خطبه الهاميه معنى العيد - من دون الغسل ولبس الجديد معنی عید بیش زیں نیست که خویشتن را بشویند و پوشاک نو بپوشند عید کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ غسل کریں اور نئے کپڑیں پہنیں والخضم و القضم مع الاهل والخدم والعبيد و ایس کہ طعام راہیمہ وہاں وکرانہ ہائے دنداں بخایید با اہل خانہ خود و نوکران و غلاماں اور طعام کو سارے مونہہ کے ساتھ اور دانتوں کے کناروں سے چبا ویں۔ خود اور ان کے اہل وعیال اور ثم الخروج بالزينة للتعييد كالصناديد باز به آرایش و زینت تمام برائے نماز عید بروں آمدن ہمچو مہتران نوکر اور غلام ۔ اور پھر آرائش کے ساتھ نماز عید کیلئے باہر نکلیں جیسے بڑے رئیس ہوتے ہیں اور ترى الأطـائب من الأطعمة منتهى طربهم في خواهی دید که خوشترین طعام با دریں روز غایت خوشی ایشان است تو دیکھے گا کہ اچھے کھانوں میں اس دن ان کی سب سے بڑھ کر خوشی ہے هذا اليوم - والنفائس من الالبسة غاية و نفیس ترین لباس با غایت حاجت ایشان است اور ایسا ہی اچھی اور نفیس پوشاکوں میں انتہائی مرتبہ ان کی حاجتوں اربهم لارائة القوم - ولا يدرون ما الاضحــاة تا قوم را نمایند و نه می دانند که قربانی چیست کا ہے تا قوم کو دکھلائیں اور نہیں جانتے کہ قربانی کیا چیز ہے۔ ولات غرض يُذبح الغنم والبقرات واز برائے کدام غرض گوسپنداں و گاواں ذبیح می کنند اور کس غرض کے لئے بکریاں اور گائیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ اور و و