خطبة اِلہامِیّة — Page 46
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۴۶ خطبه الهاميه معنى العيد من دون الغسل ولبس الجديد معنی عید بیش زین نیست که خویشتن را بشویند و پوشاک نو بپوشند اور نئے کپڑیں پہنیں عید کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ غسل کریں والخضم و القضم مع الاهل والخدم والعبيد ۔ وایں کہ طعام را بہمہ وہاں وکرانہ ہائے دنداں بخایند با اہل خانہ خو د ونو کراں و غلاماں اور طعام کو سارے مونہہ کے ساتھ اور دانتوں کے کناروں سے چباویں۔ خود اور ان کے اہل وعیال اور ثم الخروج بـالـزيـنـة للتعييد كالصناديد - و و اور باز به آرایش و زینت تمام برائے نماز عید بروں آمدن ہمیچو مہتران نوکر اور غلام ۔ اور پھر آرائش کے ساتھ نماز عید کیلئے باہر نکلیں جیسے بڑے رئیس ہوتے ہیں ترى الأطـائب من الأطعمة منتهى طربهم في خواهی دید که خوشترین طعام ها دریں روز غایت خوشی ایشان است تو دیکھے گا کہ اچھے کھانوں میں اس دن ان کی سب سے بڑھ کر خوشی ہے هذا اليوم - والنفائس من الالبسة غاية و نفیس ترین لباس با غایت حاجت ایشان است اور ایسا ہی اچھی اور نفیس پوشاکوں میں انتہائی مرتبہ ان کی حاجتوں 1 اربهم لارائة القوم - ولا يدرون ما الاضــحــاة تا قوم را نمایند کا ہے تا قوم کو دکھلائیں و نه می دانند که قربانی چیست اور نہیں جانتے کہ قربانی کیا چیز ہے۔ ولاي غرض يذبح الغنم والبقرات واز برائے کدام غرض گوسپنداں و گاواں و ذبح می کنند - و اور اور کس غرض کے لئے بکریاں اور گائیاں ذبح کی جاتی ہیں ۔