خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 45

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۴۵ خطبه الهاميه ان الضحايا هي المطايا - توصل الى ربّ البرايا به تحقیق قربانی با که هستند ہماں سواری با هستند ہا کہ سوئے خدا تعالی می برند کہ جو خدا تعالی تک پہنچاتی ہیں به تحقیق قربانیاں وہی سواریاں ہیں وتمحو الخطايا - وتدفع البلايا - هذا ما بلغنا ۔ و خطاها را محومی کنند و بلاها را دفع می کنند - این آن امر است که از اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا من خير البرية - عليه صلواة الله والبركات بہترین مخلوق یعنی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم بما رسیده است - بر و درود خدا و برکات صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں ان پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں السنيّة - وإنّه أومأ فيه الى حكم الضحيّة بزرگ باد و به تحقیق او اشاره کرده است در میں حدیث سوئے حکمت ہائے قربانی اور آنجناب نے ان کلمات میں قربانیوں کی حکمتوں کی طرف فصیح کلموں کے ساتھ بكلمات كالدرر البهية - فالأسف كل الأسف (۱۳) به سخنانے کہ ہمچو در ہائے روشن هستند پس افسوس و کمال افسوس است جو موتیوں کی مانند ہیں اشارہ فرمایا ہے پس افسوس اور کمال افسوس ہے کہ ان اكثر الناس لا يعلمون هذه النكات الخفية کہ اکثر مردم ایں نکتہ ہائے باریک را نہ مے دانند اکثر لوگ ان پوشیدہ نکتوں کو نہیں سمجھتے ولا يتبعون هذه الوصيّة - وليس عندهم و پیروی این وصیت اور اس وصیت کی پیروی نہیں کرتے نہ مے کنند ۔ و نزد ایشاں اور ان کے نزدیک