خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 33

روحانی خزائن جلد ۱۶ ٣٣ خطبه الهاميه الْعَمْلُ فِى مِلَّتِنَا مِمَّا يُقَرِّبُ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ - وَحُسِبَ ازاں کا رہا شمار کرده شده است که موجب قرب اوسبحانہ مے باشند۔ و ہیچو آں ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں اور اُس كَمَطِيْئَةٍ تُحَايِي الْبَرْقَ فِي السَّيْرِ وَلُمْعَانِهِ - فَلَاجْلِ ذَالِكَ مرکے پنداشته اند که در سیر خود برق را مشابه باشد و بدرخش آن بماند پس از بهر ہمیں سبب سواری کی طرح یہ سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر میں بجلی سے مشابہ ہو جس کو بجلی کی چمک سے مماثلت حاصل ہو اور سُمِّيَ الصَّحَايَا قُرْبَانًا - بِمَا وَرَدَ إِنَّهَا تَزِيْدُ قُرْبًا وَلُقْيَانًا این ذبیجہ ہا را قربانی نام نهاده اند چرا که در احادیث وارد شده که آنها موجب قربت و ملاقات اوسبحانه هستند اسی وجہ سے ان ذبح ہو نیوالے جانوروں کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں یا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات كُلَّ مَنْ قَرَّبَ إِخْلَاصًا وَتَعَبُّدًا وَإِيْمَانًا - وَإِنَّهَا مِنْ اَعْظَم کسے را که قربانی بگذارد از روئے اخلاص و خدا پرستی و ایمان داری و ایس قربانی ها از بزرگتر کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی نُسُكِ الشَّرِيعَةِ - وَلِذَالِكَ سُمِّيَتْ بِالنَّسِيْكَةِ - وَالنُّسُكُ عبادات شریعت هستند واز بہر ہمیں وجہ نام اینها نسیکه داشته اند و نسک در زبان عربی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نسیکہ ہے اور نُسُک کا لفظ عربی زبان میں اَلطَّاعَةُ وَالْعِبَادَةُ فِى اللَّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ - وَكَذَالِكَ جَاءَ بمعنی فرمانبرداری و بندگی آمده فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے ہم چنیں ایں لفظ نُسُك اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نُسُك لَفْظُ النُّسُكِ بِمَعْنَى ذَبْحِ النَّبِيْحَةِ - فَهَذَ الْاِشْتَرَافُ بمعنی ذبح کردن جانورا نے کہ ذبح کردنی هستند نیز ہم در لغت مذکور مستعمل شد و پس این اشتراک اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔ پس یہ اشتراک کہ جو