خطبة اِلہامِیّة — Page 33
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۳ خطبه الهاميه الْعَمْلُ فِي مِلَّتِنَا مِمَّا يُقَرِّبُ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ - وَحُسِبَ ازاں کا رہا شمار کرده شده است که موجب قرب اوسبحانه مے باشند۔ و ہمچو آں ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں اور اُس كَمَطِيئَةٍ تُحَاكِي الْبَرْقَ فِي السَّيْرِ وَلَمْعَانِهِ - فَلَاجْلِ ذَالِكَ ﴿۳﴾ مرکبے پنداشته اند که در سیر خود برق را مشابه باشد و بدرخش آں بماند پس از بہر ہمیں سبب سواری کی طرح یہ سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر میں بجلی سے مشابہ ہو جس کو بجلی کی چمک سے مماثلت حاصل ہو اور سُمِّيَ الضَّحَايَا قُرْبَانًا - بِمَا وَرَدَ إِنَّهَا تَزِيْدُ قُرْبًا وَلُقْيَانًا ایں ذبیحہ ہا را قربانی نام نهاده اند چرا که در احادیث وارد شده که آنها موجب قربت و ملاقات اوسبحانه هستند اسی وجہ سے ان ذبح ہونیوالے جانوروں کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات كُلَّ مَنْ قَرَّبَ إِخْلَاصًا وَتَعَبُّدًا وَإِيْمَانًا - وَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ کسے را که قربانی بگذارد از روئے اخلاص و خدا پرستی و ایمان داری - وایس قربانی ها از بزرگتر کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی نُسُكِ الشَّرِيعَةِ - وَلِذَالِكَ سُمِّيَتْ بِالنَّسِيْكَةِ وَالنُّسُكُ عبادات شریعت هستند واز بہر ہمیں وجہ نام اینها نسیکه داشته اند و نسک در زبان عربی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نسیکہ ہے اور نُسُک کا لفظ عربی زبان میں الطَّاعَةُ وَالْعِبَادَةُ فِي النِّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ - وَكَذَالِكَ جَاءَ بمعنی فرمانبرداری و بندگی آمده فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے ہم چنیں اس لفظ نسك اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نسك لَفْظُ النُّسُكِ بِمَعْنَى ذَبْحِ الذَّبِيْحَةِ - فَهَذَ الْإِشْتَرَاكُ بمعنی ذبح کردن جانورا نے کہ ذبح کردنی هستند نیز هم در لغت مذکور مستعمل شدہ۔ پس این اشتراک ان جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔ پس یہ اشتراک کہ جو