خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 34

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۴ خطبه الهاميه يَدُلُّ قَطْعًا عَلَى أَنَّ الْعَابِدَ فِي الْحَقِيْقَةِ هُوَ الَّذِي ذَبَحَ ه در معنی لفظ نسک یافت می شود ای را بری امر دلالت قطعی ست که درحقیقت عابد و پرستار ماں کی تواند بد که نسک کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستار اور سچا عابد ہی شخص ہے نَفْسَهُ وَقُوَاهُ - وَكُلَّ مَنْ أَصْبَاهُ لِرِضَى رَبِّ الْخَلِيْقَةِ نفس خود را و ہمہ قوتہائے خود را و ہمہ آں چیز ہارا که دل او برده اند و محبوب او شده اند برائے رضا جوئی پر وردگار جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی وَ ذَبِّ الْهَوَى - حَتَّى تَهَافَتَ وَانْمَحْي - وَذَابَ خود ذبح کرده است و خواهش نفسانی را دفع کرده است بحد یکه آن خواہش پاره پاره شده بیفتاد واز و نشانے نماند رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہوکر گر پڑیں اور نا بود وَغَابَ وَاخْتَفَى - وَهَبَّتْ عَلَيْهِ عَوَاصِفُ الفَنَاءِ و پوشیده شد و پنہاں گردید ۔ و برد تند باد ہائے فنا و نیستی بوزیدند ہو گئیں اور وہ خود بھی گداز ہو گیا اور اسکے وجود کا کچھ نمود نہ رہا اور چپ گیا اور فنا کی شہد ہوا میں اس پر چلیں اور وَسَفَتْ ذَرَّاتِهِ شَدَائِدُ هَذِهِ الْهَوْجَاءِ - وَمَنْ وذرہ ہائے او راسختی ہائے بادتند از جا ببرد۔ اس کے وجود کے ذرات کو اس ہوا کے سخت دھکے اُڑا کر لے گئے اور جس شخص نے و ہر کہ دریں فَكَرَ فِي هَذَيْنِ الْمَفْهُوْمَيْنِ الْمُشْتَرِكَيْنِ - وَتَدَبَّرَ غور کرده باشد ہر دو مفهوم که با هم در لفظ نسک اشتراک می دارند ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسک کے لفظ میں مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو نذیر المَقَامَ بِيَقُطِ القَلْبِ وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ - فَلَا يَبْقَى وایس مقام را بنگاه تدبر دیده و به بیداری دل و کشادن هر دو چشم همه پیش و پس آنرا زیر نظر داشته باشد۔ پس کی نگاہ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش و پس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اس پر