خطبة اِلہامِیّة — Page 32
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۳۲ خطبه الهاميه مِنْ ابْتِدَاءِ زَمَانِ الْإِسْلَامِ - إِلَى هَذِهِ الْأَيَّامِ - وَ اسلام تا این ایام کرده می شود و گمان من این است که این زمانہ اسلام کے ابتدا سے ان دنوں تک کیا جاتا ہے ۔ اور میرا گمان ہے ظَنِّي أَنَّ الْأَصَاحِيَ فِي شَرِيْعَتِنَا الْغَرَّاءِ - قَدْ خَرَجَتْ قربانیها که در شریعت روشن ما می کنند از حد شمار بیرون هستند و سبقت برده کہ یہ قربانیاں جو ہماری اس روشن شریعت میں ہوتا ہوتی ہیں احاطہ شمار سے مِنْ حَدِ الْإِحْصَاءِ - وَفَاقَتْ ضَحَايَا الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ انبیاء اند بر آن قربانیها که مردمان از امت ہائے سابقہ که امت باہر ہیں ۔ اور ان کو اُن قربانیوں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے مِنْ أُمَمِ الْأَنْبِيَاءِ - وَبَلَغَتْ كَثْرَةُ الذَّبَائِحِ إِلَى حَةٍ غُطِيَ علیهم السلام بودند می کردند و کثرت ذبیحہ ہا بجتے رسیده است که پوشیده شد لوگ کیا کرتے تھے اور قربانیوں کی کثرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے بهِ وَجْهُ الْأَرْضِ مِنَ الدِّمَاءِ - حَتَّى لَوْجُمِعَتْ دِمَاءُ هَا روئے زمین از خون آں ہا۔ بحدے کہ اگر جمع کرده شوند آں خون با خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُن کے خون جمع کئے وَأُرِيدُ إِجْرَاءُ هَا لَجَرَتْ مِنْهَا الْأَنْهَارُ - وَسَالَتِ الْبِحَارُ و اراده کرده شود که آنها را جاری کنند البته از اں ہا نہر با جاری شوند و دریا با بروند جائیں اور اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے نہریں جاری ہو جائیں اور دریا بہ کھلیں وَفَاضَتِ الْغُدْرُ وَالْاَوْدِيَةُ الْكِبَارُ - وَقَدْعُدَّ هَذَا و تمام زمین ہائے نشیب و واد یہائے بزرگ از خون روان گردند - واین کار در دین ما اور زمین کے تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے ۔ اور یہ کام