کشتیءنوح — Page 47
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷ کشتی نوح ظہور پذیر ہو۔ اور کوئی گروہ ان میں سے عیسائیوں کے رنگ میں ہو جائے گا عیسائی بن جائے گا جو خدا کی رہنمائی سے بوجہ اپنی شراب خواری اور اباحت اور فسق و فجور کے بے نصیب ہو گئے تا وہ پیشگوئی جو آیت وَلَا الضَّالِّينَ سے مترشح ہو رہی ہے ظاہر ہو جائے۔اور چونکہ یہ بات مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہے کہ آخری زمانہ میں ہزار ہا مسلمان کہلانے والے یہودی صفت ہو جائیں گے اور قرآن شریف کے کئی ایک مقامات میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے اور صدہا مسلمانوں کا عیسائی ہو جانا یا عیسائیوں کی سی بے قید اور آزاد زندگی اختیار کرنا خود مشہود اور محسوس ہورہا ہے بلکہ بہت سے لوگ مسلمان کہلانے والے ایسے ہیں کہ وہ عیسائیوں کی طرز معاشرت پسند کرتے ہیں اور مسلمان کہلا کر نماز روزہ اور حلال اور حرام کے احکام کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ دونوں فرقے یہودی صفت اور عیسائی صفت اس ملک میں پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں سو یہ دو ۴۴ پیشگوئیاں سورۃ فاتحہ کی تو تم پوری ہوتی دیکھ چکے ہو اور بچشم خود مشاہدہ کر چکے ہو کہ کس قدر مسلمان یہودی صفت اور کس قدر عیسائیوں کے لباس میں ہیں ۔ تو اب تیسری پیشگوئی خود ماننے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسلمانوں نے یہودی عیسائی بننے سے یہود نصاری کی بدی کا حصہ لیا ایسا ہی اُن کا حق تھا کہ بعض افراد ان کے اُن مقدس لوگوں کے مرتبہ اور مقام سے بھی حصہ لیں جو بنی اسرائیل میں گزر چکے ہیں یہ خدائے تعالیٰ پر بدظنی ہے کہ اُس نے مسلمانوں کو یہود و نصاری کی بدی کا تو حصہ دار ٹھہرا دیا ہے یہاں تک کہ اُن کا نام یہود بھی رکھ دیا مگر اُن کے رسولوں اور نبیوں کے مراتب میں سے اس اُمت کو کوئی حصہ نہ دیا پھر یہ اُمت خیر الامم کس وجہ سے ہوئی؟ بلکہ شر الامم ہوئی کہ ہر ایک نمونہ شر کا ان کو ملا مگر نیکی کا نمونہ نہ ملا۔ کیا ضرور نہیں کہ اس اُمت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آوے جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور اُن کا ظل ہو؟ کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ اس اُمت میں اس زمانہ میں ہزار ہا یہودی صفت لوگ تو پیدا کرے اور ہزارہا عیسائی مذہب میں داخل کرے مگر ایک شخص بھی ایسا