کشتیءنوح — Page 46
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶ کشتی نوح اپنی چاروں صفات ربوبیت، رحمانی ، رحیمی ، مالکیت تیم الدین یعنی اقتدار جزا وسزا کا ذ کر کر کے اور اپنی عام قدرت کا اظہار فرما کر پھر اس کے بعد کی آیتوں میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ خدایا ایسا کر کہ گزشتہ راستباز نبیوں رسولوں کے ہم وارث ٹھہرائے جائیں ان کی راہ ہم پر کھولی جائے اُن کی نعمتیں ہم کو دی جائیں خدایا ہمیں اس سے بچا کہ ہم اس قوم میں سے ہو جائیں جن پر دنیا میں ہی تیرا عذاب نازل ہوا یعنی یہود جو حضرت عیسی مسیح کے وقت میں تھی جو طاعون سے ہلاک کی گئی ۔ خدا یا ہمیں اس سے بچا کہ ہم اُس قوم میں سے ہو جائیں جن کے شامل حال تیری رہنمائی نہ ہوئی اور وہ گمراہ ہوگئی یعنی نصاری ۔ اس دعا میں یہ پیشگوئی مخفی ہے کہ بعض مسلمانوں میں سے (۴۳) ایسے ہوں گے کہ وہ اپنے صدق وصفا کی وجہ سے پہلے نبیوں کے وارث ہو جائیں گے اور نبوت اور رسالت کی نعمتیں یا ئیں گے اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ یہودی صفت ہو جائیں گے جن پر دنیا میں ہی عذاب نازل ہوگا اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ عیسائیت کا جامہ پہن لیں گے کیونکہ خدا کے کلام میں یہ سنت مستمرہ ہے کہ جب ایک قوم کو ایک کام سے منع کیا جاتا ہے تو ضرور بعض ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے علم میں اس کام کے مرتکب ہونے والے ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نیکی اور سعادت کا حصہ لیتے ہیں ابتدائے دنیا سے اخیر تک جس قدر خدا نے کتا بیں بھیجیں اُن تمام کتابوں میں خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جب وہ ایک قوم کو ایک کام سے منع کرتا ہے یا ایک کام کی رغبت دیتا ہے تو اس کے علم میں یہ مقدر ہوتا ہے کہ بعض اُس کام کو کریں گے اور بعض نہیں ۔ پس یہ سورۃ پیشگوئی کر رہی ہے کہ کوئی فرد اس اُمت میں سے کامل طور پر نبیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا تا وہ پیشگوئی جو آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم لے سے مستنبط ہوتی ہے وہ اکمل اور اتم طور پر پوری ہو جائے اور کوئی گروہ ان میں سے ان یہودیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا جن پر حضرت عیسی نے لعنت کی تھی اور وہ عذاب الہی میں مبتلا ہوئے تھے تا وہ پیشگوئی جو آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے سے مستنبط ہوتی ہے ٢٠١ الفاتحة :