کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 566

کشتیءنوح — Page 48

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۸ کشتی نوح ظاہر نہ کرے جو انبیائے گزشتہ کا وارث اور ان کی نعمت پانے والا ہو تا پیشگوئی جو آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے مستنبط ہوتی ہے وہ بھی ایسی ہی پوری ہو جائے جیسا کہ یہودی اور عیسائی ہونے کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور جس حالت میں اس اُمت کو ہزارہا بُرے نام دئے گئے ہیں اور قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہود ہو جانا بھی ان کے نصیب میں ہے تو اس صورت میں خدا کے فضل کا خود یہ مقتضا ہونا چاہیے تھا کہ جیسے گزشتہ نصاریٰ سے انہوں نے بُری چیزیں لیں اسی طرح وہ نیک چیز کے بھی وارث ہوں اسی لئے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بشارت دی کہ اس اُمت کے بعض افراد انبیائے گزشتہ کی نعمت بھی پائیں گے نہ یہ کہ نرے یہو دہی بنیں یا عیسائی بنیں اور ان قوموں کی بدی تو لے لیں مگر نیکی نہ لے سکیں۔ اسی کی طرف سورۃ تحریم میں بھی اشارہ کیا ہے کہ بعض افراد امت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ مریم صدیقہ سے مشابہت رکھیں گے جس نے پارسائی اختیار کی تب اُس کے رحم میں عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور عیسی اس سے پیدا ہوا ۔ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس امت میں ایک شخص ہوگا کہ پہلے مریم کا مرتبہ اُس کو ملے گا پھر اُس میں عیسی کی روح پھونکی جاوے گی تب مریم میں سے عیسی نکل آئے گا یعنی وہ مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا گویا مریم ہونے کی صفت نے عیسی ہونے کا بچہ دیا اور اس طرح پر وہ ابن مریم کہلائے گا جیسا کہ براہین احمدیہ میں اوّل میرا نام مریم رکھا گیا اور اسی کی طرف اشارہ ہے الہام صفحہ ۲۴۱ میں اور وہ یہ ہے کہ انی لک ھذا یعنی اے مریم تو نے یہ نعمت کہاں سے پائی ؟ اور اسی کی طرف اشارہ ہے صفحہ ۲۲۶ میں یعنی اس الہام میں کہ ہر الیک بجذع النخلة یعنی اے مریم کھجور کے تنے کو ہلا ۔ اور پھر اس کے بعد صفحہ ۴۹۶ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے یا مریم اسکن انت وزوجك الجنة نفخت فیک من لدنى روح الصدق یعنی اے مریم تو مع اپنے دوستوں کے بہشت میں داخل ہو میں نے تجھ میں الفاتحة : ٧،٦