کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 566

کشتیءنوح — Page 44

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۴ کشتی نوح بے نصیب رہ کر گمراہ نہ ہو جاویں ۔ آمین اب اس تمام تحقیقات سے انجیل کی دعا اور قرآن کی دعا میں فرق ظاہر ہو گیا کہ انجیل تو خدا کی بادشاہت آنے کا ایک وعدہ کرتی ہے مگر قرآن بتلاتا ہے کہ خدا کی بادشاہت تم میں موجود ہے نہ صرف موجود بلکہ عملی طور پر تم پر فیض بھی جاری ہیں غرض انجیل میں تو صرف ایک وعدہ ہی ہے مگر قرآن نه محض وعده بلکہ قائم شدہ بادشاہت اور اس کے فیوض کو دکھلا رہا ہے اب قرآن کی فضیلت اس سے ظاہر ہے کہ وہ اُس خدا کو پیش کرتا ہے جو اسی زندگی دنیا میں راست بازوں کا منجی اور آرام دہ ہے اور کوئی نفس اُس کے فیض سے خالی نہیں بلکہ ہر ایک نفس پر حسب اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت کا فیض جاری ہے مگر انجیل اس خدا کو پیش کرتی ہے جو ابھی اس کی بادشاہت دنیا میں نہیں آئی صرف وعدہ ہے اب سوچ لو کہ عقل کس کو قابل پیروی سمجھتی ہے حافظ شیرازی نے بیچ کہا ہے ۔ مرید پیر مغانم زمن مرنج اے شیخ چرا که وعده تو کر دی و او بجا آورد اور انجیلوں میں حلیموں، غریبوں، مسکینوں کی تعریف کی گئی ہے اور نیز اُن کی تعریف جو ستائے جاتے ہیں اور مقابلہ نہیں کرتے مگر قرآن صرف یہی نہیں کہتا کہ تم ہر وقت مسکین بنے رہو اور شر کا مقابلہ نہ کرو بلکہ کہتا ہے کہ علم اور مسکینی اور غربت اور ترک مقابلہ اچھا ہے مگر اگر بے محل استعمال کیا جائے تو بُرا ہے پس تم محل اور موقع کو دیکھ کر ہر ایک نیکی کرو کیونکہ وہ نیکی بدی ہے جو حل اور موقع کے برخلاف ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ مینہ کس قدر عمدہ اور ضروری چیز ہے لیکن اگر وہ بے موقع ہو تو وہی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تم دیکھتے ہو کہ ایک ہی سرد غذا یا گرم غذا کی مداومت سے تمہاری صحت قائم نہیں رہ سکتی بلکہ صحت تبھی قائم رہے گی کہ جب موقع اور محل کے موافق تمہارے کھانے اور پینے کی چیزوں میں تبدیلی ہوتی رہے پس درشتی اور نرمی اور عفو اور انتقام اور دعا اور بددعا اور دوسرے اخلاق میں جو تمہارے لئے مصلحت وقت ہے وہ بھی اسی تبدیلی کو چاہتی ہے اعلیٰ درجہ کے حلیم اور خلیق بنو لیکن